خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 687 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 687

خطبات طاہر جلد 1 687 خطبه جمعه ۲۳ را کتوبر ۱۹۸۷ء وہ تعلق قائم نہیں رہتا جو اچھے تربیت یافتہ بچوں کی آنکھوں میں دکھائی دینا چاہئے۔ دین سے اپنائیت دکھائی نہیں دیتی ، ایک غیریت پیدا ہو جاتی ہے۔ تو ایک طرف یہ واقعات ہمیں دکھائی دے رہے ہیں جس سے ہم کیسے آنکھیں بند کر سکتے ہیں؟ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ حسنات چونکہ برائیوں کو کھا جاتی ہیں اس لئے ہمیں کوئی ڈرنے کی ضرورت نہیں ، بے فکر رہیں خود بخود ہماری خوبیاں غالب آجائیں گی۔ تو ان دو تضادات میں بیچ میں کونسی ایسی راہ ہے جسے ہم تلاش کریں اور سب سے پہلے تو یہ کوشش کریں کہ ان تضادات کا وجود ممکن کیسے ہے۔ قرآن کریم تو سچائی ہے اور ایک سچائی کا دوسری سچائی سے تضاد ہو ہی نہیں سکتا ۔ یہ نا ممکن ہے کہ قرآن کریم ایک بات بیان فرما رہا ہو اور حقائق اس کی مخالفت کر رہے ہوں اس لئے اس تجزیے کے لئے مزید غور کرنا ہو گا۔ اس الجھے ہوئے مسئلے کو پہلے حل کرنا ہو گا کہ یہ تضاد ہے کیوں؟ ہمارا مشاہدہ کچھ اور بتا رہا ہے۔ قرآن کریم کی آیت کچھ اور بیان فرما رہی ہے اور دونوں میں گویا مشرق اور مغرب کا بعد ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ قرآن کریم ہی سچا ہے اور اصل بات یہ ہے کہ ہمارا مشاہدہ بھی درست ۔ ہے مگر ان دونوں کے درمیان جو تضاد ہے وہ ہماری نظر کی کمی کی وجہ سے ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ عملاً لوگ ضائع ہو رہے ہیں تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اچھے تھے اور اچھے ہونے کے باوجود ضائع ہو گئے ، یہ بات غلط ہے۔ وہی ضائع ہوتے ہیں جو اچھے نہیں ہیں۔ جن میں حسنات ہیں وہ کبھی ضائع نہیں ہوا کرتے۔ جن میں خوبیاں ہیں ان کی خوبیاں لازما غالب آیا کرتی ہیں ۔ ہاں! جنہیں زعم ہو کہ ہم اچھے ہیں جنہیں دھوکا ہو کہ ہم خو بیوں پر قائم ہیں ، وہ سمجھتے ہوں کہ ہم ٹھوس مقامات پر فائز ہیں لیکن بیچ میں سے وہ کھو کھلے مقامات ہوں ، ریت کے محلوں پر کھڑے ہوں ، ان لوگوں نے تو گرنا ہی گرنا ہے ۔ اس لئے نسلیں ہی وہ ضائع ہوتی ہیں جو حسنات سے خالی ہوتی ہیں ۔ ان لوگوں کی نسلیں ضائع ہوتی ہیں جن کو حسنات پر زعم ہوتا ہے لیکن عملاً وہ حسنات سے خالی ہوتے ہیں اور یہ اصول یقینی اور قطعی ہے کہ برائیاں حسنات کو نہیں کھایا کرتی خلاؤں میں داخل ہوا کرتی ہیں ۔ حسنات کے نام سے آپ کے سینے اور آپ کے اعمال بھر نہیں سکتے۔ وہ عمل سے بھرتے ہیں جو حسن عمل ہو، جو نیک عمل ہو، نیک عادات سے بھرتے ہیں۔ پس آپ کے وجود اگر نیک ناموں سے تو وابستہ ہوں اور بظاہر ارد گر د نیکی کا ملمع بھی موجود ہو لیکن اندر سینے میں خلا ہو، آپ کے اعمال میں خلا ہو تو قانون قدرت ہے کہ خلا باقی نہیں رہا کرتا، اس