خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 686
خطبات طاہر جلد 1 686 خطبه جمعه ۲۳ را کتوبر ۱۹۸۷ء مضمون پر روشنی ڈالوں گا۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرمایا ہے:۔ إِنَّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيَّاتِ (هود: ۱۱۵) کہ یقیناً حسنات برائیوں کو دور ر کر دیتی ہیں۔ یہ ایک ایسا مضمون ہے جس کے متعلق بالعموم بہت ہی غلط فہمی پائی جاتی ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ برائیاں نیکیوں کو کھا جاتی ہیں اور اس وجہ سے یہ خوف پیدا ہوتا ہے کہ ہم ایسے ماحول میں ہیں جو برا ہے اس لئے ہمیں خطرہ ہے کہ یہ برائی ہم پر غالب نہ آجائے ۔ قرآن کریم نے اس مضمون کو بالکل برعکس شکل میں پیش فرمایا ہے۔ فرمایا اگر تم واقعی اچھے ہو تو تمہیں برائی سے خوف کرنے کی کوئی ضرورت نہیں برائیاں تم سے خوف کھائیں گی کیونکہ برائیوں کی فطرت میں ایک کمزوری داخل ہے کہ حسنات کا مقابلہ نہیں کر سکتیں اور حسنات ان پر بھی ضرور غالب آتی ہیں۔ یہ ایک ایسا بالکل نیا اور اچھوتا مضمون ہے جس کا دنیا کے دوسرے مذاہب میں اشارہ تو شاید ذکر ملے مگر اس طرح وضاحت کے ساتھ اس قوت کے ساتھ آپ کو دنیا کی کسی الہامی کتاب میں اس مضمون پر روشنی پڑتی ہوئی دکھائی نہیں دے گی۔ چنانچہ اس مضمون کو مزید تقویت دیتے ہوئے قرآن کریم فرمایا ہے:۔ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا ( بنی اسرائیل:۸۲) دیکھو! حق آگیا ہے اور اب باطل کے مقدر میں بھاگنے کے سوا کچھ بھی نہیں لازما باطل کو بھاگنا ہوگا ۔ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا اس کی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ بھاگے۔ إِنَّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيَّاتِ کے پیغام کے ساتھ جب یہ نظارہ قرآن میں موجود ہے۔ اس کے بعد کسی احمدی کے لئے اس خوف کی تو ضرورت بہر حال نہیں کہ معاشرے کی برائیاں ہماری بھلائیوں کو کھا جائیں گی لیکن کچھ اور خوف کی ضرورت بہر حال ہے۔ اس لئے ہمیں اس خوف کا تجزیہ کرنا ہو گا کہ اصل قصہ کیا ہے؟ کیونکہ محض یہ کہہ دینا کہ تم اچھے ہو اس لئے تم ضرور غالب آؤ گے یہ کافی نہیں ہے کیونکہ امر واقع یہ ہے ہم دیکھتے ہیں بہت سے خاندان اردگرد کے ماحول سے متاثر ہوتے ہیں ، اپنی ان خوبیوں کو بظاہر چھوڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جن پر وہ بظاہر قائم دکھائی دیتے تھے اور برائیوں کی طرف سرکتے ہوئے نظر آتے ہیں، ان کی اولادیں ضائع ہوتی نظر آرہی ہوتی ہیں ، ان کے مزاج بدل جاتے ہیں ، ان کے دین کے رجحانات میں تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے، ان کی آنکھوں میں