خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 684
خطبات طاہر جلد ۶ 684 خطبه جمعه ۲۳/اکتوبر ۱۹۸۷ء مناسب ہوگا کہ ان دونوں جوابوں کی اکٹھی ایک کیسٹ تیار کر لی جائے اور چونکہ اس خطبے میں بھی میں اسی کے ایک اور پہلو پر گفتگو کروں گا اس لئے اس کو بھی ساتھ شامل کر لیا جائے اور تمام امریکہ کی جماعتوں میں اس احتیاط کے ساتھ ان کیسٹس کو بھجوایا جائے کہ خلا نہ رہ جائے۔اگر چہ کیسٹ کا نظام اللہ تعالیٰ کے فضل سے گزشتہ دو تین سالوں میں کافی مضبوط ہو چکا ہے اور تقویت پاچکا ہے لیکن جب بھی میں نے تفصیلی جائزہ لیا ہے تو بہت سے خلا ضرور دکھائی دیتے ہیں اور یہ کہنا درست نہیں کہ کسی ملک کی ہر جماعت میں با قاعدگی سے کیسٹس پہنچ رہے ہیں اور اس جماعت کے ہر فرد تک ان کی رسائی ہے یا ہر فرد کو ان تک رسائی ہے۔یہ نظام بھی ابھی نامکمل ہے کہ سنائی کیسے جائے اگر اکٹھا جماعت کو لیسٹس سنانے کا انتظام نہ ہو جس میں خطبات ہوں یا خصوصی پیغامات ہوں تو بسا اوقات بہت سے خاندان ایسے رہ جاتے ہیں جو اپنے طور پر تو سن ہی نہیں سکتے۔علاوہ ازیں بھی اگر جمعہ پر بھی یہ انتظام کیا جائے تو آپ جانتے ہیں کہ جن ملکوں میں آپ بس رہے ہیں یہاں بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو جمعہ پر حاضر ہی نہیں ہوسکتی اور کچھ جو جمعہ پر آتے ہیں مرد یا خواتین ان کے بچے ضروری نہیں کہ ساتھ آسکیں۔اس لئے خلا کے احتمالات زیادہ ہیں بنسبت اس کے کہ یہ یقین کیا جائے کہ سب تک پیغام پہنچ رہے ہیں۔اس لئے ایسے اہم مضامین جن کا جماعت کی تربیت کے ساتھ یا ان کے بچوں کے مستقبل کے ساتھ گہرا تعلق ہو ان کو زیادہ احتیاط کے ساتھ ، زیادہ محنت کے ساتھ احباب جماعت تک پہنچانے کی کوشش کرنی چاہئے۔اس لئے جہاں اجتماعی انتظامات ہیں ان میں یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ کتنے دوست تشریف لا سکے جو تشریف لائے ان سے مل کے یہ طے کرنا چاہئے کہ آپ اپنے بچوں کو کس طرح سنائیں گے ، جو نہیں آسکے ان تک پہنچانے کا انتظام اگر یہ ان خطبات کے علاوہ عموما بھی جماعت ایسا انتظام کرے اور اس توجہ کے ساتھ یہ انتظام کرے تو اس سے بالعموم ساری دنیا کی جماعت کو بہت سے فوائد پہنچیں گے۔خطبات ایک ایسا ذریعہ ہے جن کے ذریعے ساری دنیا میں خواہ کسی ملک سے تعلق کے رکھنے والی جماعتیں ہوں ان میں یک جہتی اور یک سوئی پیدا ہو سکتی ہے۔جماعت احمد یہ کہ مقاصد میں ایک بڑا مقصد یہ ہے کہ اسلام کو عالمی بنایا جائے ، تمام عالم کے دوسرے مذاہب پر اس کو غالب کیا