خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 674 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 674

خطبات طاہر جلد ۶ 674 خطبہ جمعہ ۶ ارا کتوبر ۱۹۸۷ء بھی امارتوں کو لاتیں مار کر امارتوں کو دھتکار کر آپ کے قریب اکٹھے ہو گئے اور وہاں جو بھی غریب تھے وہ عشق کی خاطر غریب ہوئے تھے، محمد مصطفی میت ہے کے پیار کی خاطر غریب ہوئے تھے۔اور ایسے خزانے انکوعطا ہوئے ، ایسی ان کو نعمتیں ان عطا ہوئیں کہ آج ان کا نام اگر کوئی مسلمان امیر سے امیر بھی ہو ، بڑی سے بڑی بادشاہت بھی اس کو عطا ہوئی ہو وہ انکا نام لیتے وقت ان پر سلامتی بھیجتا ہے۔اس کا سر جھکتا ہے ان کی عظمتوں کے سامنے۔یہ وہ لوگ ہیں جن کا حضرت نوح نے اجمالاً ذکر کیا تھا۔پس غریبوں سے سچی محبت حضرت د مصطفی ﷺ کا اسوہ ہے۔جہاں تک رنگ و نسل کا تعلق ہے آپ جانتے ہیں کہ بلال کو کیا عظمت نصیب ہوئی۔ایک سیاہ فام انسان ہی تو تھا اور وہ بھی غلام۔لیکن حضرت عمرؓ اپنی خلافت کے زمانے میں جب ان کو دیکھتے تھے تو سیدنا بلال کہہ کر اٹھ کھڑے ہوا کرتے تھے۔(مستدرک حاکم معرفۃ صحابہ ذکر بلال) عجیب مذہب تھا اور عجیب اس مذہب کی شان تھی کہ محمد مصطفی ہے۔اس مذہب کے آئینے کے طور پر چنے گئے۔اس لئے اپنی ذات کو مٹادیا اور کلیۂ قرآن کو سامنے کر دیا۔آنحضرت ﷺ کی شفقت آپ کے پیار ، آپ کی محبت کا یہ عالم تھا کہ ایک دفعہ ایک ایسا شخص جو نہ صرف یہ کہ انتہائی غریب تھا بلکہ اس کا رنگ سیاہ ، اس کا حلیہ اتنا خراب کہ دنیا کے بدصورت ترین آدمیوں میں شمار کیا جاتا تھا۔بعض لوگ اس کی طرف دیکھتے نہیں تھے کیونکہ دیکھ کر گھبراہٹ ہوتی تھی اور خوف طاری ہوتا تھا اتنی منحوس صورت ، مزدور تھا مزدوری پیشہ کر کے اپنی روٹی کا انتظام کرتا تھا۔ایک دفعہ وہ اسی حال میں سوچتا ہوا ایک جگہ کھڑا تھا۔میرا کیا حال ہے میں کس خاطر پیدا کیا گیا ہوں۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ وہاں سے گزرے آپ نے جس طرح مائیں پیار سے بچوں کی آنکھیں بند کر لیا کرتی ہیں۔اس طرح آگے بڑھ کر اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیا۔دیکھتے ہیں کہ بوجھتا ہے کہ میں کون ہوں۔پیار کا اظہار تھا۔وہ جانتا تھا کہ محمد مصطفی ہے کے سوا کوئی نہیں ہے جو ایسی محبت کرنے والا ہو غریبوں اور مسکینوں سے۔جانتا تھا کہ وہی ہیں۔اس کے باوجود اس کو ایک عظیم موقع ہوغر صلى الله میسر آیا اور اس نے اپنے پسینے سے شرابور جسم کو اپنے بد بودار کپڑوں کے ساتھ حضرت اقدس محمد ملے کے ساتھ ملنا شروع کیا۔ہاتھ پھیر نے شروع کیئے ، یہ بہانہ بنا کر گویا میں معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ یہ ہے کون؟ آخر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم نے فرمایا : کون ہوں میں؟ اس نے کہا کہ آپ