خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 672
خطبات طاہر جلد ۶ 672 خطبہ جمعہ ۱۶ اکتوبر ۱۹۸۷ء پس اگر آپ خود خدا سے کھوئے جا رہے ہیں ایک طرز عمل کے نتیجے میں تو پہلے اپنی فکر کریں۔ اگر آپ اپنی فکر کریں گے اور باخدا ہو جائیں گے تو خدا خودان کی فکر کریگا۔ پھر آپ کے لئے ہو سکیمیں بنانے کی ضرورت نہیں کہ کس طرح ان کو بلائیں۔ اپنے دل خدا کے لئے کھولیں ۔ خدا کی خاطر تقوی اختیار کریں، خدا کی خاطر انکسار پیدا کریں اپنے اندر۔ اور ہر قسم کے کبر سے ایسا خوف کھائیں جس طرح بعض کوڑھیوں سے خوف کھاتے ہیں۔ جس طرح شیر سے بھاگا جاتا ہے ڈر کے مارے، اس سے بھی زیادہ کبر سے خوف کھائیں ۔ اس سے زیادہ ہلاک کرنے والی اور کوئی چیز نہیں ۔ اور یہ خفی دروازوں سے اندر داخل ہوتا ہے۔ یہ بغیر آہٹ کے چلتا ہے اور جب انسان کے اندر داخل ہو جائے تو اس کے وجود پر قبضہ کر لیتا ہے۔ اور بسا اوقات عجز کا پیغام دینے والے عجز کا اظہار کرنے والے خود تکبر کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ باہر سے آنے والے خصوصیت کے ساتھ اپنی نگاہوں کو تبدیل کریں۔ خدا کا شکر ادا کریں کہ ان کو ایک غیر ملک میں ایسی دنیا کمانے کی بھی توفیق ملی جسے وہ دین کی طرف منتقل کر سکتے ہیں اور اگر نہیں کر سکتے تو ان کا آنا بیکار ، انہوں نے اپنی روحوں اور اپنی اولادوں کے سودے کئے ہیں اس ملک سے۔ اگر خدا نے آپ کو دیا ہے تو اس خیال سے خدا کے حضور جھکیں اور اس کا شکر ادا کریں کہ خدا تو نے ہمیں وہ کچھ دیا جس کی تمنا تھی کہ ملتا تو ہم خدا کی راہوں میں خرچ کرتے ۔ ملتا تو بنی نوع انسان کی بھلائی کے لئے خرچ کرتے۔ پہلے خالی ہاتھ تھے حسرتیں تھیں ۔ اب خدا نے ہاتھ بھرے ہیں تو حسرتیں پوری کرنے کا زمانہ آیا، امنگیں پوری کرنے کا زمانہ آگیا۔ اگر یہ احساس پیدا ہوگا تو کتنا شکر آپ کے دلوں میں پیدا ہوگا۔ پھر ان بھائیوں کو ، ان ته۔ پسماندہ لوگوں کو اٹھائیں ، ان کو سینے سے لگا ئیں کیونکہ یہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کا اسوہ ہے۔ قرآن سے آپ نے جو کچھ سیکھا اسے اس حیرت انگیز شان کے ساتھ اپنے وجود میں داخل کر دیا۔ کہ ہمیشہ کیلئے حسین ترین نمونے دنیا کے سامنے ایسے پیدا ہوئے کہ ان کی کوئی مثال آپ کو کہیں دکھائی نہیں دے گی ۔ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے غریبوں کے ساتھ ایسی محبت کی ہے کہ اصحاب صفہ وہ لوگ ہیں جو غرباء میں سے رسول اللہ کی محبت کے نتیجے میں مسجد میں آکے بیٹھ گئے ۔ یہ جوابی پیار کیسے پیدا ہوا اگر پہلے حضرت رسول اکرم ﷺ کے دل میں پیار پیدا نہیں ہوا تھا۔ اعلي علوس بعض لوگ اپنی بیوقوفی یا نہ سمجھی سے یہ گمان کرتے ہیں کہ اصحاب صفہ سب کے سب وہ لوگ