خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 62 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 62

خطبات طاہر جلد ۶ 62 خطبہ جمعہ ۲۳ جنوری ۱۹۸۷ء ناروے کا وصولی کا بھی ماشاء اللہ بہت اعلی معیار ہے،ستاسی فیصد سے زائد وصولی ہوچکی ہے اور وہاں بھی جو دوست بعد میں گئے ہیں امید ہے جو خاندان گئے ہیں انشاء اللہ جہاں تک میراعلم ہے جو خبریں آرہی ہیں وہ سارے خدا کے فضل سے اخلاص میں جماعت سے وابستگی میں اچھے معیار کے ہیں تو امید ہے یہ وعدہ بھی بڑھے گا اور بقیہ وصولی تو خیر بہت معمولی سی رہ گئی ہے۔سپین کی چھوٹی سی جماعت ہے لیکن ما شاء اللہ بڑی قربانی کرنے والی اور صف اول کی جماعت ہے۔وہاں بھی بیاسی فیصد وصولی ہو چکی۔ہے۔فرانس کی جماعت بڑی تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔مجھے تعجب ہے کہ اس میں 8۔35 صرف وصولی لکھی ہوئی ہے۔حالانکہ جو مالی رپورٹیں ہیں دوسری ان سے مجھے پتہ ہے کہ بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے معلوم ہوتا ہے بس یہ کوئی نظر سے اوجھل ہو گئی ہے بات۔اور اکثر جماعت تو بنی بعد میں ہے۔جب وعدے لئے گئے تھے اس وقت تو ایک آدھ آدمی تھا وہاں۔اب تو خدا کے فضل سے اچھی مضبوط جماعت بن گئی ہے۔وہاں ان کو فوری توجہ کرنی چاہئے۔وعدوں کی تجدید بھی کی جائے پھر جو وعدے ہو چکے ہیں ان کی وصولی کوئی زیادہ مشکل کام نہیں ہوگا۔بیلجیئم بھی بعد میں بڑھنے والی جماعتوں میں سے ہے۔اس لئے ان کی جو غفلت ہے وہ بھی قابل اعتناء ہے، معافی کے لائق ہے۔امریکہ پیچھے ہے ابھی۔44۔93 وعدہ امریکہ کے لئے کوئی بہت قابل فخر بات نہیں ایفائے وعدہ اور تعجب ہے کینیڈا بھی اس میں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔لیکن میرا خیال ہے یہ پرانے وقتوں کی بات ہے یا تو یہ رپورٹ پرانی ہے یا باقی چیزوں کی طرف توجہ رہی ہے، مسجد وغیرہ بنانے اور دیگر چندوں کی طرف تو دو تین سال جو جماعت بیدار ہوئی ہے اس میں اس طرف نظر نہیں پڑی۔اس لئے ان کی پردہ پوشی کی جائے تو اچھا ہے۔باقی بہت ساری جماعتیں ہیں جو پردہ پوشی کی مستحق ہیں اور کچھ اس وجہ سے پیچھے رہ گئی ہیں کہ وہاں ہمارے مبلغ یا مضبوط نظام جماعت کا قیام نہیں ہے۔اب توجہ ہو رہی ہے کہ سب جگہ جماعتی نظام کو مزید تقویت دی جائے۔امید ہے انشاء اللہ تعالیٰ صرف اس خطبہ کا وہاں پہنچ جانا ہی کافی ہوگا اور وہ اپنی گزشتہ کوتاہیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔