خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 650
خطبات طاہر جلد ۶ 650 خطبه جمعه ۹ /اکتوبر ۱۹۸۷ء قربانی کے لئے تیار نہیں ہوگی۔پس امتحان کا معیار بلند کر دیں پختی کا معیار بلند کر دیں تو اس وقت پتا چلتا ہے کہ کون کس کا ہے۔ایک حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی ذات ہے جو ہر خطرناک امتحان سے پوری گزرنے کے بعد بھی خدا کے نزدیک اس لائق ٹھہری کہ ہر بڑی سے بڑی تکلیف کے وقت وہ بنی نوع انسان کی ہمدردری میں اور دوسروں کی ہمدردوری میں اپنے نفس کو قربان کرنے کے لئے تیار ہے۔یہی وہ گہرا فلسفہ ہے جس کے نتیجے میں آپ کو شفیع بنایا گیا ہے۔لوگ بڑے آرام سے ہلکے سے منہ سے کہہ دیتے ہیں شفیع ہیں دنیا کے، ہم گناہگاروں کے اور گویا بڑے آسانی سے شفاعت نصیب ہوگئی ہے۔خدا نے کہہ دیا تو شفیع بن گیا وہ شفیع ہو گئے حالانکہ ان انعامات میں ان عظیم مقامات میں جو اللہ تعالیٰ عطا فرماتا ہے ان کے پیچھے بھی گہری حکمتیں ہوتی ہیں۔خدا کا کوئی فیصلہ بھی حکمت سے خالی نہیں۔تمام بنی نوع انسان کا شفیع اس کو بنایا جس کے متعلق جانتا تھا اور جانتا ہے کہ وہ تمام بنی نوع انسان کا سب سے زیادہ ہمدرد ہے اور تکلیفوں میں پڑ کر اس کی سچائی کھل کر نکھر کر سامنے آچکی تھی۔تمام دنیا نے جو مظالم کا نشانہ صلى الله بنانا تھا حضرت اقدس محمد مصطفی ہے اس میں سے کچھ نمونے آپ نے دیکھے تھے اور بہت سے ایسے تھے جو آپ کو بتائے گئے تھے اور قرآن کریم نے اس کی پیشگوئیاں کیں اور ملا مگہ اللہ نے ان کی تفاصیل سے آنحضرت ﷺ کو آگاہ فرمایا کہ ایسی بدبخت قومیں ہیں جنہوں نے تجھے اپنے مظالم کا نشانہ بننے کے لئے پہن لینا ہے اور صدیوں کے بعد صدیاں گزرتی چلی جائیں گی اور وہ تیرے اوپر گند اچھالتے چلے جائیں گے وہ تیرا انکار کرتے چلے جائیں گے، تیری تکذیب کرتے چلے جائیں گے۔یہ خبریں خصوصیت کے ساتھ سورہ کہف میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو دی گئیں اور احادیث سے پتا چلتا ہے کہ ان کی بہت سی تفاصیل مختلف مواقع حضور اکرم ﷺ کو بتائی گئیں۔جب یہ بتایا گیا کہ اس کے نتیجے میں بالآخر یہ قو میں ہلاک ہوں گی تو اس وقت حضرت محمد مصطفی امیہ کے دل کی جو حالت ہوئی اس کو قرآن کریم ان الفاظ میں ذکر فرماتا ہے:۔فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ عَلَى أَثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهَذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا (الكيف : ) کہ اے محمد ! تیرے دل کا کیا حال ہے ہم تجھے ان قوموں کے عذاب کی خبر دے رہے