خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 649
خطبات طاہر جلد ۶ دعوے کر رہا ہے۔649 خطبه جمعه ۹ /اکتوبر ۱۹۸۷ء آپ ایک دوست سے دوستی کا تعلق رکھتے ہیں وہ آپ پر جان نچھاور کرنے کی باتیں کرتا ہے آپ اس پر جان نچھاور کرنے کی باتیں کرتے ہیں لیکن ایک وقت آپ کو اچانک کوئی مشکل پیش آجاتی ہے آپ اس کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں وہ بہانے بنا دیتا ہے اور کئی قسم کے عذر پیش کرتا ہے اس وقت آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ سارے دعوے فرضی تھے اور یہ آزمائش روز مرہ کی زندگی میں چلتی چلی جارہی ہے۔مشکل کے وقت باپ کو اپنی اولاد کی محبت کا پتا چلتا ہے ،ہمشکل کے وقت اولا د کو اپنے ماں باپ کی محبت کا پتا چلتا ہے، دوستوں کی دوستی پر بھی جاتی ہے محبت کرنے والوں کی محبت کے دعوے پر کھے جاتے ہیں اور امر واقعہ یہ ہے کہ جتنا امتحان شدید ہوتا چلا جائے اتنا ہی زیادہ کسی دعوے کی صداقت نمایاں طور پر کھل کر اور روشن طریق پر ظاہر ہوتی ہے اور یہ بھی ایک امر واقعہ ہے کہ کلیہ ہر حالت میں کسی کا ہو رہنے کا دعوی یہ ایک محض فرضی دعویٰ ہے انسان میں یہ طاقت نہیں ہے۔آزمائش اگر بہت بڑھ جائے تو پھر انسان ہر دوسرے کو چھوڑتا چلا جاتا ہے اور یہ ایک نفسیاتی نکتہ ہے کہ آخر پر صرف نفس باقی رہ جاتا ہے۔صرف فرق یہ ہے کہ کونسی ایسی آزمائش ہے جس کے اندر یہ امتحان مکمل ہو جائے۔بظاہر ایک باپ بعض دفعہ اپنی بیٹی کے لئے جان قربان کر دیتا ہے اور آپ کہہ سکتے ہیں کہ دیکھو اس نے تو اپنا نفس قربان کر دیا لیکن قرآن کریم اس مضمون کو ایک اور رنگ میں پیش فرماتا ہے۔کہتا ہے بعض ابتلا ایسے خطر ناک ہوتے ہیں کہ کوئی جان کسی دوسری جان کے لئے قربانی کے لئے تیار نہیں رہتی۔جتنے ابتلا بڑھتے چلے جاتے ہیں جتنی تکلیف کی شدت اونچی ہوتی چلی جاتی ہے اتنا ہی اس امر کی چھان بین ہوتی چلی جاتی ہے، یوں کہنا چاہئے کہ نکھر کر یہ معاملہ سامنے آتا چلا جاتا ہے کہ کس حد تک کوئی کس سے پیار کرتا تھا، کس حد تک کوئی کسی سے محبت رکھتا تھا اور قربانی کے لئے تیار تھا۔چنانچہ اس مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے قرآن کریم فرماتا ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب بنی نوع انسان خدا کی پکڑ کے نیچے ہوں گے۔وہ ایسا سخت دن ہوگا کہ کوئی ماں اپنے بچے کے لئے قربانی کے لئے تیار نہیں ہوگی بلکہ تمنا کرے گی کہ کاش! میرا بچہ پکڑا جائے اور میں بچ جاؤں۔کوئی بچہ اپنے ماں باپ کے لئے قربانی کے لئے تیار نہیں ہوگا اور یہ تمنا کرے گا کہ کاش! میرا باپ پکڑا جائے یا میری ماں پکڑی جائے اور میں اس مصیبت سے بچ جاؤں، کوئی بہن اپنے بھائی کے لئے