خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 648
خطبات طاہر جلد ۶ 648 خطبه جمعه ۹ /اکتوبر ۱۹۸۷ء ذات ،سب سے زیادہ ہمدرد ذات کو اپنے ظلم اور اپنے دل کے تعفن کا نشانہ بناتا ہے۔ایسی ایسی ظالمانہ کتا بیں ہیں کہ خون کھولنے لگتا ہے انسان چند صفحے مطالعہ نہیں کرسکتا۔پھر آپ عیسائی دنیا کے لٹریچر کا مطالعہ کر کے دیکھ لیجئے وہ یہود جن سے سب سے زیادہ ضرران کو پہنچا آغا ز عیسائیت پر، وہ یہود جو مسیح کی صلیب کا موجب بنے ان کی سب تکلیفوں کو کلیۂ بھلایا جا چکا ہے۔گزشتہ سینکڑوں سال سے جو عیسائی مصنف اٹھتا ہے وہ اسلام کو اپنے مظالم کا نشانہ بناتا ہے اور حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی ذات کو خصوصیت کے ساتھ اپنے طعن وتشنیع کا نشانہ بناتا ہے۔یہودی کتب اٹھا کر دیکھ لیجئے عیسی علیہ الصلوۃ والسلام سے ان کا ایک فوری مقابلہ تھا اس وقت جو بعد میں پھیلتا چلا گیا اور وہ مقابلہ جس کا آغاز حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوی کے ساتھ ہوا تھا وہ آج تک اسی طرح جاری رہنا چاہئے مگر عیسائی اور یہودی Polarization یہ مد مقامل جو مورچہ بندی ہے یہ آپ کو وہاں دکھائی نہیں دیتی لیکن یہودیوں کا رُخ بھی اسلام کی طرف اور خصوصیت سے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی طرف ہے اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں قرآن کریم کی تعلیم سے واقف سبھی لوگ جانتے ہیں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی سیرت سے واقف سبھی لوگ جانتے ہیں کہ اس سے زیادہ بنی نوع انسان کا ہمدرد وجود نہ پیدا ہوا نہ ہوسکتا ہے عقلاً۔ممکن نہیں کہ کوئی انسان ان حدووں سے تجاوز کر جائے جو نیکی اور رحمت کی حدیں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے چھوٹی تھیں۔پھر یہ تضاد کیوں ہے؟ کیوں ایک ایسے انسان کی دشمنی کی جاتی ہے اس کے مختلف محرکات بھی ہیں اور مختلف فلسفیانہ پس منظر بھی ہیں اور یہ ایک بہت وسیع مضمون ہے لیکن اس کے صرف ایک پہلو کی طرف میں آج آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔خدا ان لوگوں سے جو اسے سب سے زیادہ پیارے ہوں اور پھر ان لوگوں سے جو بنی نوع انسان کے لئے سب سے زیادہ پیارے وجود بننے والے ہوں جو بنیادی صلاحیتیں رکھتے ہوں کہ بنی نوع انسان کے آئندہ سب سے زیادہ محبوب بنے والے ہوں ان سے یہ سلوک کیوں ہونے دیتا ہے؟ ایک حکمت اس کی یہ ہے کہ دعوے پر کھے جاتے ہیں اور آزمائش کی چکی میں سے گزر کہ دعووں کی حقیقت روشن ہوا کرتی ہے۔بے شمار انسان ہیں جو کسی اور انسان سے تعلق کا دعویٰ کرتے ہیں اگر اس دعوی کو پرکھا نہ جائے تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ کون اپنے دعوے میں سچا ہے اور کون اپنے دعوے میں جھوٹا ہے اور فرضی