خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 641
خطبات طاہر جلد ۶ 641 خطبه جمعه ۲/اکتوبر ۱۹۸۷ء کہ پھر جب خدا یہ فیصلہ کرتا ہے تو اس قوم کو برائی پہنچنے سے دنیا کی کوئی طاقت بچا نہیں سکتی اور خدا کے سوا کوئی نہیں ہے جو اس کے بدنتائج سے کبھی ان کو محفوظ رکھ سکے۔تو خدا کو دوشانوں کے ساتھ پیش کیا گیا ہے ایک وہ شان جو ہر لحظہ محافظ کی شان ہے، ہر لحظہ حفاظت کرنے والے کی شان ہے۔سوئے ہوؤں کی بھی حفاظت کرنے والا اور جاگے ہوؤں کی بھی حفاظت کرنے والا ، بیٹھ رہنے والوں کی بھی حفاظت کرنے والا، چلنے والوں کی بھی حفاظت کرنے والا۔فرمایا تمہارے اپنے اختیار میں ہے تم چاہو تو اس ذات سے تعلق قائم کر لو لیکن یا درکھو ایک دوسرا پہلو بھی ہے اگر یہ تم نے نہ کیا تو پھر خدا ایک اور شان اور ایک اور جلال کی شان سے ظاہر ہونا بھی جانتا ہے جب وہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ میرے بعض بندے میری نعمتوں کی قدر نہیں کرتے اور ان کے اہل نہیں رہے تو پھر خدا جس برائی کا فیصلہ کرتا ہے پھر کوئی دنیا کی طاقت اسے بچ نہیں سکتی۔ایک طرف خدا کے محافظ ہیں جو ہر طاقت کے مقابل پر ایک کامیاب حفاظت کرتے ہیں۔ایک طرف دنیا کے محافظ ہیں جو سارے مل کر بھی زور لگا ئیں تو خدا کی تقدیر کے مقابل پر کسی بندے کو برائی سے بچانہیں سکتے۔کتنی کھلی کھلی دو راہیں ہیں کتنی صاف ہیں، ان کی منفعتیں اور ان کے نقصانات کتنی واضح زبان میں کھول دیئے گئے ہیں۔اس لئے ظاہر ہے کہ ہر احمدی کا فیصلہ ایک ہی ہو گا اس راہ کو قبول کر چکا ہے اسی راہ پر قائم رہنا چاہے جو خدا کی حفاظت کی راہ ہے، جس کے نظارے وہ بارہا اپنی زندگیوں میں دیکھ چکا ہے جس کی لذتوں سے آشنا ہو چکا ہے۔خدا کرے کہ ہم میں سے ہر ایک اس راہ پر ہی قدم بڑھا تا ر ہے اور جو غفلت کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں نیا شعور عطا فرمائے ، جن کا ضمیر تو ہے لیکن بیدار نہیں اللہ تعالیٰ انہیں بیدار ضمیر عطا فرمائے۔جو اپنے بچوں کے حال سے غافل ہیں نہیں جانتے کہ ان کا رُخ کس طرف ہے ان کو اپنے بچوں کا شعور عطا فرمائے اپنے بچوں کے لئے ایک نیا ضمیر بخشے اور وہ ترقی کی اس راہ میں آگے بڑھیں جہاں سفر کے دوران وہ کم نہ ہوتے رہیں بلکہ اور روحانی اولا د کو ساتھ ملا کر ان کا قافلہ بڑھتا چلا جائے۔اس شان کے ساتھ وہ شاہراہ ترقی اسلام کی راہ پر آگے بڑھتے رہیں ، خدا کرے کے ایسا ہی ہو۔آمین۔