خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 640 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 640

خطبات طاہر جلد ۶ 640 خطبه جمعه ۲ اکتوبر ۱۹۸۷ء از لی اور ابدی خدا ہے جو ہمیشہ آپ کے ساتھ ہے۔اس نے وعدہ کیا ہے کہ میں ہمیشہ آپ کی بات کا جواب دوں گا۔جب آپ پہلا فیصلہ کر چکے ہیں تو پھر وہ سودے جوخود خدا نے آپ کو سکھائے ہیں وہ سودے اس سے کرتے چلے جائیں۔ہر موقع پر سارا بوجھ اس پر ڈال دیں کہ اے خدا ! اب یہ مشکل پیش آگئی اب میرا فیصلہ فرما اب میں کیا کروں؟ باہر سے آکر لوگ آپ کا بوجھ نہیں اٹھا ئیں گے اس کے باوجود۔ہم توقع کریں گے کہ آپ کے اندر بہت سی مخفی طاقتیں تھیں جن کو آپ نے کبھی استعمال نہیں کیا اور وہ بوجھ جو خدا اٹھانے کی توفیق دیتا ہے ان بوجھوں کے ساتھ لذت عطا کیا کرتا ہے، ان بوجھوں کے ساتھ تھکاوٹ اور درماندگی عطا نہیں کیا کرتا۔ایک فرحت عطا کرتا ہے جس کی کوئی مثال دنیا میں اور نہیں۔اس لئے یہی وہ ایک راہ ہے جس راہ سے آپ اپنی حالت بدل سکتے ہیں اور جب تک آپ اپنی حالت نہ بدلیں اس ملک کی حالت نہیں بدل سکتے۔اور ایک لازمی قانون دوسرا بھی ہے اگر آپ نے اپنی حالت نہ بدلی اس حد تک کہ اس ملک کی حالت بدل سکیں تو یہ ملک آپ کی حالت بدل دے گا۔آپ اس حال پر نہیں رہ سکیں گے ، اس نعمت پر قائم نہیں رہ سکیں گے جس نعمت کے ساتھ آپ یہاں پہنچے تھے یا جس نعمت کے ساتھ آپ نے کہیں بھی سفر کا آغاز کیا تھا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ اس مضمون کو جو میں نے بیان کیا اس کے بیان کرنے کے معا بعد فرماتا ہے۔اِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيْرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ بڑی بڑی نعمتیں میں عطا کرتا ہوں، میں ان کو تبدیل نہیں کیا کرتا جب بندے یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ ہم ان نعمتوں پر راضی نہیں ہم دوسری نعمتوں پر راضی ہیں ہمیں تیرا روحانی عطا کردہ رزق کافی نہیں ہم دنیا کے گند پر منہ مارنے پر تل چکے ہیں ہمیں مزہ ہی نہیں آتا تیری باتوں کا دنیا کی باتوں میں مزہ آتا ہے۔جب وہ یہ فیصلہ کر لیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے پھر میں بھی فیصلہ کرتا ہوں اور یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ یہ لوگ میری نعمت کے لائق نہیں رہے۔فرمایا جب میں یہ فیصلہ کرتا ہوں :۔اِنَّ اللهَ لَا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيَّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ وَإِذَا أَرَادَ اللهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ ۚ وَمَا لَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَالِ (الرعد : ١٢)