خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 616
خطبات طاہر جلد ۶ 616 خطبه جمعه ۲۵ ستمبر ۱۹۸۷ء شامل ہونے والا بھی شروع میں ویسے مجرم بنتا ہے اس کے ساتھ شریک ہو کر بعد میں پھر وہ خود عادی بنتا ہے اور دوسرا مرض جو عام انسانوں میں پایا جاتا ہے بات کو آگے پہنچانے والا اس کا ذکر فرما کے فرمایا کہ تم میں سے تو اکثر لوگ ایسے ہیں لاعلمی میں جو بات سنتے ہیں آگے کر دیتے ہیں۔ پس ایک طرف غیبت سنو گے اگر تم میں یہ عادت پائی گئی کہ بات آگے کرنی ہے تو تم وہ بات آگے کرنی شروع کر دو گے اور سوسائٹی میں ہر طرف یہ باتیں پھیل جائیں گی ۔ پھر تیسرا درجہ وہ ہے کہ غیبت عام نفسیاتی بیماریوں کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک شریر انسان عمداً قوم کو تباہ کرنے کے لئے جھوٹی باتیں پھیلاتا ہے اور ایس سوسائٹی جو غیبت کے مرض میں مبتلا ہو اور غیبت کو برداشت کر چکی ہو، روز مرہ کی زندگی کا حصہ بنا چکی ہو اور جس کے لوگوں میں یہ عادت پڑ گئی ہو کہ آگے بات پہنچاتے ہیں وہ بہترین شکار ہیں ایسے دشمنوں کا اس سے بہتر فضا ان کو نہیں مل سکتی ۔ پس یہ وہ فضا ہے جہاں جراثیم پھر وبا کی صورت اختیار کر جاتے ہیں تیزی کے ساتھ لوگ بیمار ہونا شروع ہوتے ہیں۔ اس لئے ضرورت ہے کہ جماعت ان باتوں کے خلاف متنبہ ہو۔ سب سے اول ذمہ داری اہلِ ربوہ کی ہے کیونکہ آج دشمن کی شرارتوں کا سب سے بڑا نشانہ ربوہ بنا ہوا ہے اور میں جانتا ہوں کہ اہلِ ربوہ میں اس قسم کی باتیں پھیلانے کے لئے آج ہی نہیں بلکہ جب سے ربوہ بنا ہے اس کے آغاز ہی سے بعض لوگ عمداً مقرر کئے جاتے ہیں۔ دشمن بعض لوگوں کو خریدتے ہیں ان کو مقرر کرتے ہیں کہ جھوٹی باتیں پھیلاؤ اور ہر قسم کے لغو خیالات ان کے اندر جاری کئے جاتے ہیں ہر قسم کے الزامات لگائے جاتے ہیں ان کے بڑوں پر کہ جن کو سننے کے بعد جن کو برداشت کرنے کے بعد پھر ان کے اندر کئی قسم کی برائیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اگر ایک الزام ہے مثلاً نا انصافی کا ظلم کا ، بے حیائی کا جو ایسے انسان پر لگایا جا رہا ہے جس کی کوئی شخص عزت کرتا ہے یا کسی لحاظ سے اس سے بڑا ہے تو اس الزام کو برداشت کرنے کے نتیجے میں ان برائیوں کے علاوہ جو میں نے بیان کی ہے ایک اور برائی اس میں یہ پیدا ہوگی وہ یہ کہتا ہے اچھا جی ! جب لوگ یہ کرتے ہیں تو پھر ہم کیوں نہ کریں، جب بڑے ایسے کرتے ہیں تو پھر ہمارا کیا ہے ہم تو عام انسان ہیں ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا اور اس کے نتیجے میں اس سوسائٹی میں پھر اس قسم کے جواب ہر نصیحت کرنے والے کو ملنے لگ جاتے ہیں ۔ آپ کسی سے کہیں کہ میاں ! تم اخلاق سے بات کرو کہ جی جانے دو فلاں صاحب جو ہیں وہ تو اس طرح بات کرتے ہیں ۔ اپنی