خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 601
خطبات طاہر جلد ۶ 601 خطبہ جمعہ ۱۸؍ستمبر ۱۹۸۷ء ہے۔اس لئے یہ ہر جگہ پہنچیں گے ہر جگہ شرارت کریں گے۔جہاں بھی اس وقت اللہ تعالیٰ کے فضل سے شرارت نہیں ہے وہاں کی جماعت کو بیدار مغز بھی ہونا چاہئے۔چنانچہ میں نے اسی وقت ساری دنیا کی جماعتوں کو ہدایت دی تھی کہ اپنے اتنے قیمتی مسوادات کی بھی حفاظت کا انتظام کریں اور اپنے مساجد کی حفاظت کا پہلے سے بہتر انتظام کریں یہ بھی اسی اسکیم کا ایک حصہ ہے۔لیکن بہر حال جن مساجد کونقصان پہنچا ہے ان کی تعمیر نو میں بھی ہمیں جہاں تک کسی کو توفیق ہو حصہ لینا چاہئے۔چنانچہ ہالینڈ کی مسجد کے لئے میں نے اعلان کیا تھا کہ جن دوستوں کو تو فیق ہے وہ اس سے پہلے سے بہت زیادہ شاندار بنانے کے لئے اگر خدا کی راہ میں کچھ خرچ کر سکتے ہیں تو کریں۔اسی طرح بنگلہ دیش کی مساجد میں جب بھی خدا توفیق دے گا ہمیں ان کو نہ صرف یہ کہ دوبارہ بحال کرنا ہے بلکہ پہلے سے بہت زیادہ بڑھانا ہے اور اگر کوئی معمولی چھپروں کی مسجد تھی اسے پختہ بناکے دینا ہے۔چند نمازی نماز پڑھ سکتے تھے تو کئی گنا زیادہ نمازیوں کے لئے گنجائش پیدا کر نیہ۔سے کوئی ایک جگہ بھی دنیا میں ایسی نہیں جہاں احمدی مسجد پہ حملہ ہوا ہو اور جواباً ہم نے اس سے زیادہ تر وسیع مسجد بنانے کی کوشش نہیں کر لی۔یہ تو لمبے فاصلے ہیں، لمبے سفر ہیں انشاء اللہ اسی طرح ہم یہ سفر آگے کرتے چلے جائیں گے۔جماعت کا جہاں تک تعلق ہے اپنے طور پر اپنے علاقوں میں مسجدوں کے علاوہ بھی جن مسجدوں کو نقصان پہنچا ہے ان کے لئے کچھ حصہ لیں۔اس ضمن میں ایک تاکید ہے کہ جن احباب نے صد سالہ جو بلی میں ابھی اپنے بقایا ادا کرنے ہیں یا بعض اور کسی بڑی تحریک میں اپنا چندہ ابھی ادا کرنے والا باقی ہے وہ سوائے اس کے کہ تبرک کے طور پر بالکل معمولی حصہ لیں پہلے اپنے بقایا ادا کریں پھر نئی تحریکات میں حصہ لیں۔صد سالہ جوبلی کے کام بھی بہت زیادہ ہیں اور بڑے Demanding ہیں یعنی ان کا وقت تھوڑا رہ گیا ہے کام بہت زیادہ ہیں اخراجات بہت ہیں اٹھنے والے اس لئے اس چندے کو تو بہر حال اہمیت دینی چاہئے۔جن کے بقایا ہیں وہ پہلے بقایا ادا کرنے کی طرف توجہ کریں پھر اللہ تعالیٰ توفیق دے تو پھر ان تحریکات میں بھی شامل ہو جائیں۔تو مسجد کے لئے میں اپنی طرف سے ان مساجد کی تعمیر کے لئے جن پر دشمن حملہ کرتا ہے ایک ہزار پونڈ کا اپنی طرف سے میں وعدہ پیش کر چکا ہوں اور بتانے کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ کئی