خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 56
خطبات طاہر جلد ۶ 56 خطبه جمعه ۲۳ جنوری ۱۹۸۷ء یہ بتانا چاہئے کہ ہمارا دس لاکھ کا وعدہ پورا نہیں ہوا ، سات لاکھ اس میں سے ادا شدہ ہے اور بقیہ ہمارے ذمہ ہے اور یہ تین لاکھ اللہ تعالیٰ نے زائد عطا فرمایا ہے لیکن وہ چالا کی یہ کرتے ہیں کہ جب دس لاکھ کی رقم پوری ہوئی کہہ دیا کہ وعدہ پورا ہو گیا حالانکہ نہیں ہوا ۔ وعدہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے کیا تھا۔ اس کے مجموعے کا نام ہے وہ وعدہ جو پہلے آیا ہے۔ بعد میں خدا تعالیٰ دو طریقے سے اس وعدے کو بڑھاتا رہتا ہے اور ان کو یہ اطلاع کرنی چاہئے تھی شروع میں کہ اب ہمارا وعدہ دس نہیں رہا، گیارہ ہو گیا ، بارہ ہو گیا ، تیرہ ہو گیا۔ چونکہ خدا وعدوں کو بڑھاتا رہتا ہے اور وہ بڑھائے ہوئے وعدے یہ سیکرٹری جان بوجھ کے شمار نہیں کرتے تا کہ مشکل نہ پڑ جائے بعد میں ۔ اس لئے بظاہر وعدے پورے ہو رہے ہوتے ہیں لیکن عملاً نہیں ہو رہے ہوتے۔ ہر جگہ لوگوں کی یہی عادت ہے۔ ہمیں پتہ ہے زمیندارے کا کہ وہاں مثال کے طور پر اگر سوایکڑ فصل کاشت ہوئی ہے اور بجٹ میں اسی تھی کہ اُسی ایکٹر کاشت ہوگی تو مینیجر صاحبان حتی المقدور کوشش کرتے ہیں کہ بقیہ میں کا پتہ نہ چلے تا کہ وہ جو Average اوسط پیداوار انہوں نے بتائی ہے کہ ہم نے کرنی ہے اس دفعہ وہ پوری ہو جائے۔ یعنی اگر دس من فی ایکڑ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ ہم دکھائیں گے ، فی ایکڑ دس من پیدوار کریں گے تو اسی ایکٹر پر دس من فی ایکٹر پیداور کے نتیجے میں آٹھ سومن پیدا ہوگی۔ لیکن اگر میں ایکڑ بڑھا دیئے گئے تو آٹھ سو نہیں بلکہ ہزار من ہونی چاہئے لیکن چونکہ وہ ہزار من پیدا نہیں ہوتی سوایکٹر میں سے کم پیدا ہوتی ہے۔ آٹھ من فی ایکڑ اوسط پیدا ہو جاتی ہے مثلا تو کل اوسط آٹھ سو من کل مقدار زمیندارہ پروڈکشن کی خواہ وہ گندم ہو خواہ وہ کپاس ہو آٹھ سومن بن جائے گی ، آٹھ من فی ایکڑ کے حساب سے سوا پکڑ لگا ہوا ہو تو آٹھ سومن بن جاتی ہے۔ اور اگر مالک کو یہ پتہ نہ ہو کہ اسی ایکٹر نہیں بلکہ سوا ایکر کاشت کی گئی تھی تو یہی سمجھے گا اور بہت خوش ہوگا کہ اس منیجر صاحب نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور دس من فی ایکڑ کی کاشت پوری کر کے دکھا دی۔ بعض دفعہ ان کی چالا کی کام آجاتی ہے بعض دفعہ نہیں آتی مگر آپ کی چالا کی کام نہیں آنی اگر آپ کریں گے کیونکہ مالک میں نہیں ہوں مالک اللہ ہے۔ اس کو پتہ ہے کہ کتنی ایکر کاشت ہوئی ہے اور اس کو پتہ ہے کہ اوسط کیا نکل رہی ہے۔ اس لئے خدا سے جو چالا کی کرنے والا ہے اگر وہ شرارت سے کرتا ہے تو اُس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يُخْدِعُونَ اللَّهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ