خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 2 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 2

خطبات طاہر جلد ۶ 2 خطبہ جمعہ ۲/جنوری ۱۹۸۷ء آپ اسے کہیں معین کریں وہ وقت یا ماضی بن چکا ہوگا یا ابھی آیا ہی نہیں ہوگا ، آپ کو انتظار کرنا پڑے گا اور جب آئے گا تو پیشتر اس کے کہ آپ کا ذہن اس کا تصور بھی کر سکے وہ ماضی میں گزر جاتا ہے اور ہم ہر اس چیز کو گزرتے ہوئے وقت کو حال سمجھ رہے ہیں کیونکہ نہ ماضی سے ہمارا تعلق ہے درحقیقت، وہ ما ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے نہ مستقبل سے کوئی تعلق ہے کیونکہ اس کا ایک مہم انتظار ہے اور جو ہے وہ ہمیں حال دکھائی دیتا ہے جو ہے ہی نہیں دراصل۔عجیب خدا تعالیٰ نے اس کائنات کو ہمارے لئے بظاہر نہایت ہی زیادہ ٹھوس بھی بنایا اور سوچنے والوں کے لئے یہ پیغام بھی رکھ دیا کہ اس میں کچھ بھی حقیقت نہیں۔صرف وقت کا مالک ہے جس کے نزدیک ماضی بھی ہے، حال بھی ہے، مستقبل بھی ہے اور اس کے سوا کوئی بھی مالک نہیں ہے لیکن اس کے باوجود انسان کچھ پیمانے گھڑ لیتا ہے اور وہ پیمانے بھی درحقیقت یہ کہنا چاہئے کہ اس کے اپنے گھڑے ہوئے نہیں ہیں۔قدرت نے اس کی ذہنی سوچوں کو آسان کرنے کے لئے حوالے دینے کے لئے اپنے زندگی کے لائحہ عمل کو مرتب کرنے کے لئے ، وقت کو مختلف ادوار سے باندھ رکھا ہے اور ان ادوار کے حوالے سے انسان وقت کا ایک تصور قائم کر لیتا ہے۔ساری کائنات میں ایک وقت نہیں ہے۔ہر وقت کا تصور اللہ تعالیٰ نے کسی دور سے باندھ رکھا ہے۔جسے ہم چوبیس گھنٹے کا دن کہتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین گردش کر کے خاص اس مقام پر واپس آجائے جہاں سے کسی لمحے چلی تھی اور اس مقام کی تعیین کرنا چاہیں تو آپ نہیں کر سکتے کیونکہ وہ ایک مسلسل گزرتا ہوا وقت ہے لیکن جائزہ کے بعد یہ اندازہ ہو گیا کہ 23 گھنٹے کچھ منٹ یعنی 24 کے لگ بھگ چند سیکنڈ کم میں یہ زمین لازماً پھر وہاں پہنچے گی اس نسبت سے ہر وقت جب یہ زمین چکر لگاتی ہے تو ہمارا وقت کا پیمانہ 24 گھنٹے منتقل ہو جاتا ہے کم بیش اور جب سال کا چکر لگاتی ہے تو تین سو پینسٹھ دن میں سے چند سیکنڈ کم یہ چکر بنتا ہے ایک سال کا۔اپنی ذات میں اس کی کچھ بھی قیمت نہیں۔ہزار دفعہ زمین گردش کر جائے اس سے انسان کو کیا فرق پڑتا ہے؟ ایک گردش کے بعد دوسری گردش کیوں بہتر ہو پہلی سے، اس کا جغرافیہ سے کوئی تعلق نہیں۔انسان ہے جس کو خدا تعالیٰ موقع دیتا ہے کہ ہر گردش میں اپنی حالت بدلے اور اپنے وقت کا اس دوران میں جو وقت اس کو ملا ہے اس کا ایسا استعمال کرے کہ جب دوبارہ اس کا سر وہاں ابھرے جہاں ڈوبا تھا، جہاں وہ نشان لگا چکا ہے کہ اس وقت میرا ایک دور پورا ہو گا تو