خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 589
خطبات طاہر جلد ۶ 589 خطبہ جمعہ ا ار ستمبر ۱۹۸۷ء ہے جو دوسری دھاتوں میں نہیں جس کو خدا تعالیٰ نے چن لیا یہ کہہ کر کہ میں نے اسے نازل فرمایا۔ایک چیز کی طرف میری توجہ سویڈن میں پیدا ہوئی۔چنانچہ لجنہ کے اجلاس میں بھی میں نے ان کو متوجہ کیا کہ صرف لوہا ایک ایسی دھات ہے جس کے ذرات کو خدا تعالیٰ نے یہ توفیق بخشی ہے کہ ایک سمت منہ کر لیں۔باقی دھاتوں کے ذرات کے منہ مختلف سمتوں میں رہتے ہیں اور بجلی کی جتنی طاقت چاہیں آپ گزاریں ان کے اندر یہ استطاعت ہی نہیں کہ وہ مقناطیس بن سکیں یعنی تانبے میں یہ طاقت نہیں ہے، چاندی میں یہ طاقت نہیں ہے ، سونا کتنا ہی قیمتی آپ کو لگے لیکن اس میں یہ طاقت نہیں ہے ، پلاٹینم میں یہ طاقت نہیں ہے لیکن لو ہے میں ہے کہ وہ مقناطیس بن جاتا ہے اور مقناطیس بنے کا راز یہ ہے کہ اس کے سارے ذرے ایک سمت میں منہ کر لیتے ہیں۔پس قرآن کریم نے ہمیں بہت بڑی حکمت کا راز بتا دیا اور جب ہم غور کرتے ہیں قرآن کریم کی دوسری آیات پر تو امت محمدیہ کو بالکل لوہے کی دھات کی طرح شمار کیا گیا ہے۔فرمایا ہے جہاں کہیں بھی ہو ایک طرف منہ کرو ہمیشہ اپنا قبلہ درست رکھو۔اتنی اہمیت دی گئی ہے یک جہتی کو کہ دنیا کی ساری الہی کتابوں کا مطالعہ کر کے دیکھ لیں کہیں اتنی اہمیت تو چھوڑ اس کا عشر عشیر بھی آپ کو نہیں ملے گا۔پس امت محمدیہ کا منہ اگر ایک طرف ہو جائے تو اس میں عظیم مقناطیسی طاقت پیدا ہو جاتی ہے اور اسی کا نام ریح ہے جو فرمایا جب تم ایک دوسرے سے منہ پھیر لو گے تو تمہاری ریح نکل جائے گی۔ریح اس قوت کو کہتے ہیں جو اپنے جسمانی مادے سے بڑھ کر ہوتی ہے وہ نظر نہیں آرہی ہوتی کیونکہ اس کا دائرہ پھیلا ہوا ہوتا ہے۔وہ رعب ہے جس کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات میں بھی ذکر ملتا ہے۔پس یک جہتی بہت ضروری ہے کیونکہ ہم نے جو کام کرنے ہیں وہ ہماری موجودہ مادی طاقت سے بہت بڑھ کر ہیں اور اگر ہم ایک طرف رخ کرلیں سارے تو محض ہماری مادی طاقت کے اجتماع کے نتیجے میں جو قوت حاصل ہوتی ہے وہ نہیں رہے گی بلکہ وہ قوت حاصل ہو جائے گی جسے قرآنی اصطلاح ریح کہتی ہے اور جسے سائنسی اصطلاح مقناطیس کہتی ہے۔اس پہلو سے جب میں نے غور کیا تو میں حیران رہ گیا کہ ہم پہلے صرف یہ باتیں سوچا