خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 55 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 55

خطبات طاہر جلد ۶ 55 59 خطبہ جمعہ ۲۳ / جنوری ۱۹۸۷ء آیت میں ہے الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ ( البقرہ:۴) آغاز میں ہی ہے۔یہاں اس غیب کا بہت وسیع مفہوم ہے ایک یہ بھی ہے کہ مومن اس لئے غیب پر ایمان لاتے ہیں کہ ان کے سامنے غیب ہمیشہ حقیقت بنتا رہتا ہے۔جو غیروں کے لئے غیب رہتا ہے یعنی جو سامان نہیں مہیا ہو سکتا وہ نہیں مہیا ہوسکتا۔مومن اس لئے ایمان لاتے ہیں کہ خدا اس غیب کو حاضر میں تبدیل فرماتا رہتا ہے ان کے لئے اور وہ کامل ایمان رکھتے ہیں کہ مستقبل کے خدا کے وعدے اسی طرح غیب سے حاضر میں تبدیل ہوتے رہیں گے۔جو چیز دنیا کو نظر نہیں آرہی وہ مومن کی یقین اور ایمان کی آنکھ دیکھ رہی ہوتی ہے کہ ہے اور لازماً ہو گی۔اس یقین کے ساتھ جب آپ دعا بھی کریں گے اور اپنے ارادوں میں ایک تجدید پیدا کریں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ آپ کے وعدے ضرور پورے ہوں گے۔صد سالہ جوبلی کے سیکرٹری کی طرف سے بڑی پریشانی کی رپورٹیں ملتی رہی ہیں کہ دیر ہو رہی ہے اور جو سیکرٹریان ہیں مختلف جماعتوں میں وہ بھی پریشانی کی اطلاعیں دے رہے ہیں۔لیکن مجھے تو کامل یقین ہے کہ جو خدا یہ نمونے دکھا چکا ہے اس پہ بدظنی کا تو کوئی حق ہی نہیں بنتا بلکہ گناہ کبیرہ ہے بدظنی اپنے نفس پر بھی حسن ظن کریں اور خدا پر تو حسن ظن مومن کا ہوتا ہی ہے اور بظاہر جو بات مشکل دکھائی دیتی ہے ارادہ کریں کہ ہم نے اس کو پورا کر کے دکھانا ہے تو اس طرح اگر اس سال کے آخر تک بقیہ رقمیں پوری ہو جا ئیں تو امید ہے انشاء اللہ تعالیٰ پھر باقی جو کام ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ خود بخود چلتے رہیں گے کیونکہ فکر میں کام کے معاملے میں اتنی زیادہ ہیں کہ وصولی کو اجازت نہیں ہونی چاہئے کہ یہ بھی فکر بن کر ساتھ ساتھ انسان کو پریشان کرتی رہے۔جو کام ہونے والے ہیں وہ ہی بہت زیادہ ہیں۔اتنا وقت ہی نہیں ملنا توجہ دینے کا کہ اب یہ بھی فکر کریں کہ وصولی کہاں سے ہوگی۔اس لئے جماعت کو خصوصیت سے اس طرف متوجہ کرتا ہوں۔اس ضمن میں ایک اور ضروری بات بھی بتانے والی ہے کہ ہر قسم کے لوگ اپنے کاموں میں، اپنے کاموں کو پورا کر کے دکھانے میں مختلف چالا کیاں کرتے رہتے ہیں۔ان کو ہم بددیانتیاں نہیں کہہ سکتے ، ہوشیار یاں ہیں اور بعض جماعتوں کے سیکرٹری بھی یہ ہوشیاریاں کرتے رہتے ہیں۔مثلاً وعدہ اگر دس لاکھ کا ہے تو جن لوگوں نے دس لاکھ کا وعدہ کیا تھا انہوں نے اگر سات لاکھ ہی ادا کیا ہو اور اس عرصے میں تین لاکھ کے وعدہ کرنے والے اور پورا کرنے والے مزید پیدا ہو چکے ہوں تو واقعہ ان کو