خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 567
خطبات طاہر جلد ۶ 567 خطبه جمعه ۲۸ / اگست ۱۹۸۷ء حکمت کے ساتھ مسلسل آگے بڑھیں گے اور جو نصیحت کی جاتی ہے اس کو معمولی سمجھ کے نظر انداز نہیں کریں گے تو دیکھتے دیکھتے جماعتوں کی کایا پلٹ جائے گی۔بعض دفعہ سنتے ہیں کہتے ہیں ہاں خلیفہ وقت نے کہہ دیا ہے ٹھیک ہے تھوڑی دیر کے بعد یہ بھی بھول جائے گا ہم بھی بھول جائیں گے۔میں تو انشاء اللہ نہیں بھولوں گا کیونکہ مجھے خدا یاد کرا دیتا ہے، آپ بھولیں گے تو جرم کریں گے۔میری تو دن رات کی یہ تمنا ہے، دن رات کی دل میں ایک آگ لگی ہوئی ہے میں کیسے بھول سکتا ہوں۔اس لئے اللہ مجھے یاد کرا تارہے گا اور میں یا درکھوں گا اور یاد آپ کو بھی کراتا رہوں گا لیکن اگر آپ نے غفلت کی وجہ سے اس بات کو بھلایا تو یا درکھیں آپ خدا کے سامنے جوابدہ ہوں گے۔نہ بھولیں نہ بھولنے دیں۔آج جماعت کی سب سے بڑی سب سے اہم ذمہ داری خدا کا پیغام دوسروں تک پہنچانا ہے اور اس میں ہم پہلے ہی پیچھے رہ گئے ہیں۔کون سا وقت رہ گیا ہے ضائع کرنے کا ؟ ہر شخص کو تربیت دیں پیار اور محبت سے سمجھا کر آگے بڑھائیں اور جو ایک دفعہ اس میدان کا سوار بن جائے گا وہ پھر آپ کو دوبارہ اس کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت نہیں رہے گی۔یہ کام ہی ایسا ہے دنیا والے جس طرح نشہ کرتے ہیں تو نشہ ان کو سنبھال لیتا ہے اسی طرح تبلیغ کا ایسا کام ہے کہ جو نشے سے بڑھ کر طاقت رکھتا ہے اور تبلیغ کرنے والے کو سنبھال لیتا ہے۔داعی الی اللہ پھر داعی الی اللہ ہی بنا رہتا ہے اس کو کسی اور کام میں دلچسپی ہی نہیں رہتی ، بعض داعی الی اللہ تو اپنے گھر کے حالات بھول جاتے ہیں ، اپنے خاندانوں کو بھول جاتے ہیں، دن رات ایک کام کی لگن ہو جاتی ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں جب احمدیت تیزی سے پھیلی ہے تو یہ وجہ تھی۔ایسے ایسے صحابہ تھے جن کو اپنے تن بدن کی کسی اور چیز کی ہوش ہی نہیں رہتی تھی۔دعوت الی اللہ میں مصروف ہوتے تھے تو ہر دوسری چیز بھول جایا کرتے تھے۔۔چنانچہ مغل صاحب، عبدالعزیز صاحب مغل لاہور کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک صحابی تھے، ان کے واقعات آتے ہیں کہ بعض دفعہ یہ ہوتا تھا کہ صبح گھر سے سبزی لینے گئے ہیں اور رات بارہ بجے واپس آئے ہیں۔پتا لگا کہ گاؤں جا کے سبزی لینی شروع کی تو وہیں تبلیغ شروع کر دی، کچھ دکاندار تھے ، کچھ آنے والے اکٹھے ہو گئے ایک اڈا بن گیا اور نہ کھانے کی ہوش نہ کسی گھر کا خیال۔گھر والے بیٹھے انتظار کر رہے ہیں کہ سبزی لے کر آئے تو کچھ پکے اور یہ بارہ بجے رات کے