خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 566
خطبات طاہر جلد ۶ 566 خطبه جمعه ۲۸ / اگست ۱۹۸۷ء مذہبی کیفیت اور ہے شہری لوگوں کی مذہبی کیفیت اور ہے۔پھر یہاں باہر سے آکر بسنے والے ہیں۔ان میں عرب ہیں، ان میں سے افریقین ہیں، ان میں ویت نامیز ہیں۔ایک بہت بڑا طبقہ ویت نام کا آج کل شمالی علاقوں کی طرف رخ کر رہا ہے۔اسی طرح بعض دیگر مہاجرین ہیں مختلف ممالک کے، سیلون کے مہاجرین ہیں، بعض اور ممالک کے مہاجرین ہیں۔ان لوگوں کی طرف توجہ کرنا ہے۔پھر قیدی ہیں کئی جرموں کے نتیجے میں کئی بغیر جرم کے قید ہو جاتے ہیں۔کئی جرم کر کے قید ہوتے ہیں لیکن قید کے دوران ان کے اندر اصلاح کی طرف توجہ پیدا ہو جاتی ہے۔اس وقت ان کے پاس وقت ہوتا ہے۔اُس وقت وہ خاص مزاج رکھتے ہیں نیک باتوں کو سننے اور ان پر عمل کرنے کا۔پھر بیمار لوگ ہیں، ہاسپٹل (Hospital) میں ، غریب لوگ ہیں جن کا یا رشتہ داروں کی کمی کی وجہ سے یا بوڑھا ہونے کی وجہ سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔کئی مسافرا یکسیڈنٹس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ہر طرف ایسے طبقے پھیلے پڑے ہیں جن کوئی زندگی دینے کا کام آپ کے سپرد ہے اور ہر طبقے کوملحوظ رکھ کر اس کام کو آگے بڑھانا ہوگا۔جب اتنے طبقے سامنے آجائیں اور ایک مربی پیش نظر رکھے کہ ہاں ان سب کو مخاطب کرنا میرا کام ہے تو لازما اس کے اندر Panic پیدا ہوگی ، اس کے اندر خوف و ہراس پیدا ہوگا کہ میرے پاس چار تو گنتی کے آدمی ہیں جو تبلیغ کر رہے ہیں چار یا پانچ ہی تو ہیں جو اپنی رپورٹیں لا کر مجھے دیتے رہتے ہیں، ان کو میں سب جگہ کیسے استعمال کر سکتا ہوں۔اس لئے اگر وہ اپنی زمینوں کی فکر کرے گا تو اس کے لئے لازما اور مزدور حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔جس طرح زمین کا کام بڑھتا ہے تو مزدوروں کی تلاش بڑھ جاتی ہے زمیندار کو۔اس طرح راہ مولیٰ کے مزدور اس کو تلاش کرنے پڑیں گے کیونکہ خدا کی زمینیں بڑھ گئی ہیں۔پس ایک کام کی طرف عدم توجہ، دوسرے کام کی طرف سے عدم توجہ پر مبذول ہو جاتی ہے۔ایک کام کی طرف کما حقہ توجہ کریں تو دوسری توجہ خود بخود بیدار ہوتی ہے۔اسی طرح کام ایک دوسرے کو سہارا دے کر آگے بڑھتے ہیں۔اس لئے سب سے اہم ذمہ داری کسی ملک کے امیر کی ہے، اُس ملک کے مربی کی ہے اور اس ملک کی مجلس عاملہ کی من حیث المجموع ذمہ داری ہے اور متعلقہ عہدیداران کی ہے، اسی طرح خدام ہیں، انصار ہیں۔اگر سارے اپنی ذمہ داریوں کو پیش نظر رکھ کر