خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 564 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 564

خطبات طاہر جلد ۶ 564 خطبه جمعه ۲۸ / اگست ۱۹۸۷ء کے ساتھ پیش ہو کہ اے خدا! اس سال میری محنت کا یہ پھل ہے، میں نے کوشش کی تو نے اپنے فضل کے ساتھ مجھے توفیق عطا فرمائی کہ میں نے تیری راہ میں نئے کھیت اگائے ہیں اور تیری راہ میں نئے باغ لگائے ہیں۔تو دعوت الی اللہ کے باغ اور کھیت لگانے کا کام یہ عہدیداران کا کام ہے اور یہ شخض نصیحت سے نہیں ہوتا، بی حض یاد دہانی سے بھی نہیں ہوتا، یہ ساتھ لگ کر کام سکھانے سے ہوتا ہے۔بعض عادتیں راسخ کرنے سے ہوتا ہے ، بعض لوگوں کو پکڑ کر اپنے ساتھ لگانا اور پھر ان کے ساتھ پیار کا تعلق قائم کر کے ان کے دلوں میں کام کی محبت پیدا کرنا، یہ ایک فن ہے اور اس فن کے متعلق قرآن کریم نے ہمیشہ کے لئے ایک نہایت ہی عمدہ اصولی روشنی ڈالی جس سے استفادہ کرنا چاہئے۔حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے سپر د خدا تعالیٰ نے قوموں کو زندہ کرنے کا کام کیا تھا۔وہ قوموں کے نبی تھے بڑے عظیم الشان مقام کے نبی تھے اور خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ تیرے ذریعے میں قوموں کو نئی زندگی عطا کروں گا۔بڑے عاجز مزاج تھے۔حیران ہوئے کہ اتنا مشکل کام میں کیسے کر سکوں گا۔عرض کیا رَبِّ اَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتُى (البقرہ:۲۲۱) زندگی تو تو نے ہی بخشنی ہے میں جانتا ہوں میرے ذریعے ہو یا جو بھی تیرا منشا ہے لیکن تو بخشنے والا ہے۔میں جانتا تو ہوں کہ تو ان قوموں کو زندہ کر دے گا مگر کیسے کرے گا مجھے بتا تو سہی میرے دل کو تسلی دے۔تو خدا تعالیٰ نے وہ رازان کو سمجھایا کہ زندہ میں کروں گا لیکن تیرے ذریعے کروں گا۔فرمایا چار پرندے لے ان کو اپنے سے مانوس کر لے۔اپنے لئے ان کے دل میں محبت پیدا کر اور ان کے لئے اپنے دل میں محبت پیدا کر۔جب وہ مانوس ہو جائیں تو ان کو چار مختلف سمت کی پہاڑیوں پر چھوڑ دے پھر ان کو آواز دے، دیکھ کس سرعت کے ساتھ وہ تیری آواز کے اوپر اڑتے ہوئے چلے آتے ہیں۔یہ نئی زندگی بخشے کا جو نظام ہے خدا تعالیٰ نے خود حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو سمجھایا اور ہمیشہ کے لئے ہمارے لئے نمونے کے طور پر پیش فرما دیا۔پس ہر مر بی ، ہر مبلغ، ہر امیر اور ہر صدر اور ہر متعلقہ عہد یدار کو خواہ وہ سیکرٹری اصلاح وارشاد ہو یا جس حیثیت سے بھی اس کام میں اس کا تعلق ہو اس کو چاہئے کے جماعت کے بعض افراد کو پکڑے اور فَصْرُهُنَّ إِلَيْكَ (البقرہ:۲۶۱) کے طابع ان کو اپنے ساتھ وابستہ کرے۔اپنے ساتھ ملا کر، پیار