خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 547 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 547

خطبات طاہر جلد ۶ 547 خطبه جمعه ۴ ۱ را گست ۱۹۸۷ء ممکن ہوسکتا تھا وہ تھا بظاہر لیکن اللہ کی تقدیر نے ثابت کیا کہ خدا کے بہادر بندوں کے سامنے قحط الرجال نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔جو اللہ پر توکل کرنے والے ہوتے ہیں، دعاؤں سے خدا کی مدد مانگتے ہیں اور جہاد فی سبیل اللہ اپنے اموال اور اپنی جانوں سے کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ان کو خدا یہ توفیق بخشتا ہے کہ جہاں مرد نظر نہ آرہے ہوں وہاں سے مرد پیدا کر کے دکھا دیتے ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ گوبر کے ٹکڑے نظر آتے تھے جن پر ہاتھ ڈالا محمدمصطفی اللہ نے اور چمکتی ہوئی سونے کی ڈلیوں میں تبدیل فرما دیا۔(القصائد الاحمدیہ صفحہ ۳۰) پس آپ بھی تو اسی کے غلام ہیں، اسی کی محبت کا دعویٰ کرنے والے ہیں ، اسی عظیم وجود کے کام کو آگے بڑھانے کا عہد لے کر اٹھے ہیں۔اس لئے جماعت احمدیہ کے افراد کو اگر کوئی امیر یہ کہہ کر رد کرتا ہے کہ یہاں قحط الرجال ہے تو وہ جھوٹ بولتا ہے۔اس کے ہاں عقل کا یا ایمان کا قحط ہو سکتا ہے لیکن قحط الرجال نہیں، اگر قحط الرجال ہوتا نعوذ بالله من ذالک تو اس وقت پاکستان کے اکثر احمدی مرتد ہو چکے ہوتے۔میں یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ پوری طرح بے عملی کا شکار ہیں لیکن نسبتیں ہوا کرتی ہیں، یہ دو گروہ خدا تعالیٰ نے نمایاں طور پر دکھائے ہیں یہ مطلب نہیں کہ ان کے درمیان کوئی اور ٹکڑا ہی نہیں آتا ، درجہ بدرجہ فرق پڑا کرتے ہیں۔پس اس وقت میرا جائزہ یہ ہے کہ جماعت، ساری دنیا کی جماعتوں میں، اکثر جماعتوں میں اکثر احمدی ایسے ہیں جو ابھی صف اول کے مجاہد نہیں ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ غیر معمولی کام کی گنجائش موجود ہے۔اگر آپ ان سب کی تمام صلاحیتوں کو صف اول کی صلاحیتوں میں تبدیل کر دیں تو اتنی بڑی طاقت جماعت احمدیہ بن چکی ہے کہ ساری دنیا کی طاقتیں مل کے بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔یہ طاقتیں خدا نے دیکھیں ہیں تو ہم پر بوجھ ڈالے ہیں، یہ طاقتیں خدا کی تقدیرکو دکھائی گئی ہیں تبھی ان اتنے بڑے بڑے ابتلاؤں میں سے جماعت کو خدا تعالیٰ نے گزارنا شروع کیا ہے۔پس ان کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے امرائے جماعت پر اور پریذیڈنٹ صاحبان پر یا دیگر عہدیدار خواہ وہ قائد کہلائیں یا زعیم کہلائیں، جو نام بھی ان کا رکھیں۔طریقہ کار یہ ہونا چاہئے کے کچھ پیچھے ہٹنے والے یا کمزور رہنے والے آدمیوں پر تھوڑی تھوڑی ذمہ داریاں ڈالنی شروع کریں۔ان کو اپنے ساتھ ملائیں، ان سے محبت اور پیار کا سلوک کریں ان پر