خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 517 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 517

خطبات طاہر جلد ۶ 517 خطبہ جمعہ ۳۱ جولائی ۱۹۸۷ء کر سکتا ہوں میں نے ان کو لکھنا تھا میں نے اپنا فرض پورا کر دیا اس سے زیادہ میں کچھ کر نہیں سکتا اور اس سے زیادہ تمہیں توقع نہیں رکھنی چاہئے اور یہ بالکل درست ہے۔لیکن ایک ذات ایسی ہے جس کے قبضہ قدرت میں انسان بحیثیت فرد ہی کے نہیں بلکہ ساری دنیا کی قومیں ، تمام مردہ اور زندہ وجود اس طرح ہیں کہ ایک ذرہ برابر بھی ، ایک شعشہ برابر بھی اس قبضہ قدرت سے باہر نکلنے کی کسی کو استطاعت نہیں ہے۔اس لئے میں آپ کو متوجہ کر رہا ہوں کہ واپس جا کر اس بات پر زور دیں کہ اپنے مظلوم احمدی بھائیوں کے لئے دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کے مصائب کا دور ختم فرمائے ، ان کے صبر کی آزمائشیں جتنی ہو چکیں انہیں اور زیادہ لمبا نہ فرمائے اور اگر اس کے ہاں یہی مقدر ہے اور جماعت کے عظیم تر مقاصد اس سے وابستہ ہیں کہ صبر کا دور کچھ اور لمبا چلے تو پھر ان کے حوصلوں کے دل بڑھا دے، ان کے عزم کو سر بلند رکھے، پہلے سے بڑھ کر اپنے پیار کا سلوک ان سے فرمائے اور ان کی دلداریاں کرے تا کہ وہ اس مشکل وقت میں حوصلے ہارنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے پہلے سے بڑھ کر قائل ہوتے چلے جائیں اور ان کا ہر آنے والالمحہ ہر گزرے ہوئے لمحے سے بہتر ہوتا چلا جائے۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: ابھی نماز جمعہ کے بعد نماز عصر بھی جمع ہوگی اور نماز عصر کے معا بعد ہمارے ایک احمدی دوست چوہدری محمود احمد صاحب کی نماز جنازہ ہوگی جو پاکستان سے تعلق رکھتے تھے، وہاں شدید بیمار ہوئے اور علاج کی آخری چارہ جوئی کے طور پر کچھ عرصہ پہلے انگلستان تشریف لائے لیکن آپریشن کے بعد پھر ان کی طبیعت سنبھل نہ سکی۔ان کے متعلق اطلاع ملی تھی دو تین دن پہلے کہ وہ وفات پاچکے ہیں اور آج ہی ان کا جنازہ تیار ہو کر آیا ہے۔اس لئے نماز عصر کے معا بعد سامنے جنازہ ان کا آجائے گا اور ہم ان کی نماز جنازہ حاضر پڑھیں گے۔