خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 501
خطبات طاہر جلد ۶ 501 خطبہ جمعہ ۲۴ جولائی ۱۹۸۷ء کی ضرورت پڑی تو امیر کو تبدیل کیا جائے گا۔اگر چند بیماروں کو اس غرض سے باہر نکالنا پڑا کہ ان کی بیماری کے اثرات دوسروں تک نہ پہنچیں تو ایسا کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔یہ دونوں فیصلے تکلیف دہ ہیں لیکن میرے کاموں میں یہ تکلیف شامل ہے ، میرے منصب میں یہ تکلیف داخل ہے اس لئے میں اس سے گریز نہیں کر سکتا لیکن میں امید کرتا ہوں اگر ہم ساری جماعت دعائیں کرے، اگر امراء انکساری دکھائیں لیکن انکساری کے ساتھ Firmness بھی ہو،اصولوں کا سودا نہ کریں۔جہاں ان کو خدا تعالیٰ نے مغفرت کا حق نہیں دیا وہاں اپنی نرم دلی کو جماعت کے لئے نقصان کا موجب نہ بنائیں۔جہاں سختی کے بغیر اور اصولوں میں مفاہمت کے بغیر نرمی کام کر سکتی ہے وہاں اپنی انانیت کو اس نرمی کی راہ میں روک نہ بننے دیں۔انکساری کے تمام اپنے خدا داد جو ہروں کو استعمال کریں اور دعائیں کریں تو کوئی بعید نہیں کہ جہاں بظاہر بڑے بڑے فتنے دکھائی دے رہے ہیں وہاں کوئی بھی فتنہ باقی نہ رہے۔تو بہر حال اس چھ مہینے کے بعد چند مہینے تحقیقات کے بھی لگ جائیں گے تو میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالی ۸۸ء کے وسط تک جماعت خدا کے فضل سے یہ کہہ سکے گی کہ اب ہم جہاں تک انسانی کوششیں ہو سکتی تھیں امت واحدہ بن چکے ہیں اور اس حیثیت سے اگلی صدی میں ہم داخل ہورہے ہیں کہ تمام دنیا کومحمد مصطفی ﷺ کے جھنڈے تلے ایک امت کے طور پر اکٹھا کرنے کی کوشش کریں گے۔یہ آپ کریں گے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ خدا کا یہ وعدہ آپ کے حق میں ضرور پورا ہوگا۔وَأُولَيكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ جو اکٹھے ہو کر ایک امت بن کر خدا کی راہ میں نیکیوں کی طرف بلاتے ہیں اور بدیوں سے باز رکھتے ہیں خدا فرماتا ہے او ليكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ یقینا یہی لوگ ہیں جو کامیاب ہوں گے۔