خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 1 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 1

خطبات طاہر جلد 1 1 خطبه جمعه ۲ / جنوری ۱۹۸۷ء نئے سال کی مبارکباد، مالی قربانی اور وقف جدید کے نئے سال کا اعلان ( خطبہ جمعہ فرمودہ ۲ جنوری ۱۹۸۷ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت کریمہ کی تلاوت کی: وَالَّذِينَ تَبَوَّقُ الدَّارَ وَالْإِيْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ * وَمَنْ يُوْقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ پھر فرمایا:۔ (الحشر : ١٠) اس آیت میں جس کی میں نے تلاوت کی ہے جو مضمون بیان ہوا ہے اس کا آج کے خطبہ سے ایک گہرا تعلق ہے لیکن اس سے پہلے کہ میں خطبہ کے اس مرکزی حصے کی طرف آؤں ابتدائی چند باتیں آج کے وقت سے تعلق رکھنے والی آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ وقت تو ایک گزرتی ہوئی قدر ہے جس پہ کہیں ہاتھ نہیں رکھا جا سکتا کہیں انگلی اس پر ٹکائی نہیں جاسکتی ۔ ماضی حال میں اور حال مستقبل میں مسلسل اس طرح بدلتے چلے جارہے ہیں کہ ان کے وقت کا کوئی حصہ بھی کسی لمحے کسی لمحے کے کروڑویں حصے پر بھی معین نہیں کیا جاسکتا کیونکہ پیشتر اس سے کہ