خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 472
خطبات طاہر جلد ۶ 472 خطبہ جمعہ ۷ ار جولائی ۱۹۸۷ء تھا کہ ہمارے پاس یہ رقم باقی رہ گئی تھی جو سرمائے کے لئے تھی، ہمارے پاس یہ رقم باقی رہ گئی تھی جو فلاں کام کے لئے رکھی ہوئی تھی ، ہمارے پاس یہ رقم باقی رہ گئی تھی جو فلاں کام کے لئے رکھی ہوئی تھی، ہمیں پیغام ملا کہ سال ختم ہو رہا ہے اور کوئی اور ذریعہ نہیں ، ہم نے ساری کی ساری خدا کے حضور پیش کر دی اور اس لئے نہیں ہم بتا رہے کہ کوئی اس سے ہماری انانیت کو تسکین ملے گی یار یا کاری مراد ہے بلکہ آپ کی ہدایت ہے کہ مجھے اطلاع دیا کرو تا کہ دعا کی تحریک پیدا ہواوران خطوط کے بعد جوانتظامیہ کے خطوط ملنے شروع ہوئے، بعد میں ملنے شروع ہوئے ، اب بھی مل رہے ہیں ان میں بھی حیرت انگیز قربانیوں کا ذکر ملتا ہے۔تو بظاہر تو وہ لوگ خود یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ ہم بالکل خالی ہاتھ رہ گئے ہیں۔پورا خزاں کا سا منظر ہے جو کچھ پتے ہمارے پاس رہ گئے تھے باقی جو کچھ پھول نظر آتے تھے وہ سب ختم ہو گئے لیکن خدا تعالیٰ ان کو یہ خوشخبری دے رہا ہے۔وَمَا أَنْفَقْتُم مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ تم نے اپنی کو طرف سے تو کمال کر دیا ہے سب کچھ جھاڑ بیٹھے لیکن تم دیکھتے نہیں کہ وہ خدا جو عام دنیا میں درختوں سے یہ سلوک فرماتا ہے کہ جب وہ سب کچھ جھاڑ بیٹھتے ہیں تو اتنا نہیں ان سے بڑھ کر ان کو عطا کیا کرتا ہے۔اپنے خاص بندوں سے اور محمد مصطفی ﷺ کے غلاموں سے وہ کیوں ایسا سلوک نہیں فرمائے گا۔اس لئے تمہاری لئے کسی قسم کی مایوسی کا کوئی جواز باقی نہیں۔یہ تو وہ مضمون تھا جو گزشتہ خطبے میں بیان سے رہ گیا تھا۔آج کے خطبہ کے لئے جیسا کے عموماً جلسے کے قرب پر رواج ہے اور ایک اچھی رسم بن چکی ہے جو فائدہ مند ہے کہ جلسے سے متعلق ، آنے والے مہمانوں سے متعلق اور میز بانوں سے متعلق کچھ ہدایات دی جاتی ہیں اور ہدایات تو وہی ہیں جو گزشتہ سالوں میں بھی دی جاچکی ہیں لیکن فَذَكِرانْ نَّفَعَتِ الذِّكْرَى (الاعلیٰ : ۱۰) کے ارشاد کے تابع نصیحت کو بار بار دہرانا پڑتا ہے تا کہ جولوگ بھول چکے ہوں ان کو یاد کروایا جائے۔اس وقت تک جو انتظامات ہیں ان کے ڈھانچے آخری شکل میں مکمل ہو چکے ہیں لیکن مکمل کہنا درست نہیں کیونکہ میرے ذہن میں ایک دو باتیں ہیں جن کی روشنی میں کچھ ان میں اضافہ بھی کرنا پڑے گا۔بہر حال اب تک جس حد تک بھی منتظمین کی سوچ تھی انہوں نے اپنے ڈھانچےمکمل کر لئے ہیں اور ڈیوٹیاں تقسیم کر دی گئی ہیں۔