خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 434 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 434

خطبات طاہر جلد ۶ 434 خطبہ جمعہ ۲۶/ جون ۱۹۸۷ء جس قدر وہ توڑے گئے اسی قدر وہ مضبوط ہوتے گئے اور جس قدر انہیں مشکلات راہ کا خوف دلایا گیا اسی قدر ان کی ہمت بلند اور شجاعت ذاتی جوش میں آتی گئی۔بالآخر وہ ان تمام امتحانات سے اول درجہ کے پاس یافتہ ہوکر نکلے اور اپنے کامل صدق کی برکت سے پورے طور پر کامیاب ہو گئے اور عزت اور حرمت کا تاج ان کے سر پر رکھا گیا۔(سبز اشتہار، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ: ۴۵۷-۴۶۰) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔”اے میرے دوستو! جو میرے سلسلہ بیعت میں داخل ہو ( یعنی یہ تو وہ مضمون ہے جو ہمیشہ ہوتا آیا ہے اور آپ کو خدا تعالیٰ نے جو خبریں دیں ان کے مطابق آئندہ جماعت کو بھی پیش آنا تھا۔اس کے لئے تیاری کی نصیحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں) اے میرے دوستو ! جو میرے سلسلہ بیعت میں داخل ہو خدا ہمیں اور تمہیں ان باتوں کی توفیق دے جن سے وہ راضی ہو جائے۔آج تم تھوڑے ہو اور تحقیر کی نظر سے دیکھے گئے ہو اور ایک ابتلا کا وقت تم پر ہے اسی سنّت اللہ کے موافق جو قدیم سے جاری ہے“۔ہر ایک طرف سے کوشش ہو گی کہ تم ٹھوکر کھاؤ اور تم ہر طرح سے پھر فرمایا ہے:۔ستائے جاؤ گے“۔یہاں حال کا مضمون معا مستقبل کے مضمون میں تبدیل فرما دیا گیا۔وہ جو ابتلاء کا دور جاری تھا اس میں کچھ مزید اضافے ہونے والے تھے ،نئی شکلوں میں ابتلا نے ظاہر ہونا تھا۔اس لئے جیسا کہ میں بیان کر رہا ہوں پہلے مضمون کا بھی مستقبل کی بعض خبروں سے تعلق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں ابتلا کا وقت تم پر ہے اسی سنت اللہ کے موافق جو قدیم سے جاری ہے لیکن آئندہ کیا ہو گا فرماتے ہیں:۔وو ہر ایک طرف سے کوشش ہو گی کہ تم ٹھوکر کھاؤ اور تم ہر طرح سے