خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 427
خطبات طاہر جلد ۶ 427 خطبہ جمعہ ۲۶/ جون ۱۹۸۷ء گزارے بغیر خدا تعالیٰ کا علم نہ بنے۔چنانچہ قرآن کریم بسا اوقات یہ محاورہ استعمال فرماتا ہے کہ ہم نے یہ کیا تا کہ اللہ تعالیٰ جان لے۔نادان آدمی یہ سمجھتے ہیں کہ بالکل کھو کھلی سی بات ہے خدا تعالیٰ کو پہلے ہی علم ہے یہ کیوں کہتا ہے کہ وہ ایسا کر دیا تا کہ خدا تعالیٰ جان لے۔حالانکہ اگر اس کا برعکس سوچیں تو فوراً ان کو مفہوم سمجھ میں آجائے گا۔اگر وہ نہ ہو تو خدا تعالیٰ نہیں جانے گا پھر کیونکہ جو ہے وہی جانتا ہے جو نہیں ہے وہ نہیں جانتا کیونکہ فرضی باتوں پر تو خدا تعالیٰ کا کوئی علم نہیں ہے جو ایسی باتیں جو ہیں ہی نہیں ، جو عدم ہیں ان کے متعلق تو خدا کا صرف یہی علم ہے کہ وہ عدم ہیں۔اس لئے جو بات ہو نہیں سکتی یا ہو نہیں جاتی اس کا علم خدا کو نہیں ہوتا اور جو ہوتی ہوتی ہے لازما اس کا علم ہوتا ہے۔اس لئے اگر علم ہوتا ہے تو اسے ہو کے رہنا پڑے گا ورنہ وہ علم جھوٹا ثابت ہو جائے گا۔تو جس کنارے سے بھی آپ نظر ڈالیں۔خدا کے علم کا تقاضا ہے کہ ایک بات ضرور ہو اور جو بات ضرور ہوگی اسی کا علم ہو گا ضرور۔پس خدا تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ اپنے دوست کہلانے والوں کو ایسے ابتلا میں سے گزارتا ہے کہ ان کی ذات کے متعلق جو خدا کا علم ہے وہ سچا ہو کر دنیا کے سامنے ظاہر ہو جائے۔وہ علم عمل میں ڈھل جاتا ہے اور پھر وہ لوگ جو ادنیٰ اور حقیر اور ذلیل ہونے کے باوجود وفا کرتے ہیں وہ یقیناً اس لائق ہیں کہ ان کی غیر معمولی قدر کی جائے۔دیکھیں! آپ کی ضرورت کے وقت اگر کوئی امیر آدمی آپ کے کام آئے تب بھی آپ اس کے زیر ا حسان آجاتے ہیں لیکن ایک امیر آدمی کے اگر غریب آدمی کام آجائے کچھ نہ ہونے کے باوجود تو جو جذ بہ اس امیر کے دل میں پیدا ہوتا ہے اس کو اس پہلی حالت کے جذبے سے کوئی نسبت نہیں ہوتی۔ایک طاقتور آدمی جب ضرورت کے وقت کسی کمزور کا محتاج کا ہو جائے اور وہ قربانی کر کے اس کی مددکرے تو یہ جو وفا کا یا ایثار کا مظاہرہ ہے یہ اپنی ذات میں ایک بہت بڑی عظمت رکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ تو قادر مطلق ہے بندے کمزور اور بالکل بے حقیقت ہیں اس کے مقابل پر۔خدا چاہے تو اپنے پیغام کو خود ہی دنیا پر غالب کر سکتا ہے لیکن چند کمزور بے حیثیت ناکارہ بندے جن کو ساری دنیا دھتکار رہی ہوتی ہے اور ذلیل کر کے مردود کر دیا کرتی ہے اس وقت اس حالت میں بھی وہ خدا سے وفا کرتے ہیں تو آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی کتنی رحمتیں جذب کرنے والے ہوں گے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی نقشے کو بیان کرتے ہوئے