خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 425 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 425

خطبات طاہر جلد ۶ 425 خطبہ جمعہ ۲۶/ جون ۱۹۸۷ء بظاہر ذلیل کر دئے جاتے ہیں ) اور باوجود مقبول ہونے کے کچھ مردود سے کر کے ان کو دکھاتا ہے۔یہ ابتلا اس لئے نازل نہیں ہوتا کہ ان کو ذلیل اور خوار اور تباہ کرے یا صفحہ عالم سے ان کا نام و نشان مٹا دیوے کیونکہ یہ تو ہر گز ممکن ہی نہیں کہ خداوند عز وجل اپنے پیار کرنے والوں سے دشمنی کرنے لگے اور اپنے بچے اور وفا دار عاشقوں کو ذلت کے ساتھ ہلاک کر ڈالے۔بلکہ حقیقت میں وہ ابتلا کہ جو شیر ببر کی طرح اور سخت تاریکی کی مانند نازل ہوتا ہے اس لئے نازل ہوتا ہے کہ تا اس برگزیدہ قوم کو قبولیت کے بلند مینار تک پہنچا دے اور ا الہی معارف کے بار یک دقیقے ان کو سکھا دے“۔سبز اشتہار روحانی خزائن جلد ۲ صفحه : ۴۵۷-۴۵۸) پہلا نتیجہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نکالا ہے وہ یہ ہے کہ تا ان کو قبولیت کے بلند مینار تک پہنچا دے۔اس کا مفہوم سمجھنا چاہئے کہ اس فقرے کے اندر کیا حقیقت پوشیدہ ہے جو سطحی نظر سے مطالعہ سے نظر نہیں آتی۔ابتلا کے ذریعے مقبولیت کے بلند مینار پر کیسے پہنچایا جاتا ہے؟ اگر خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنا پیارا قرار دے دے اور کسی آزمائش میں سے ان کو نہ گزارے تو یہ ترجیح بلا وجہ اور بلاحق ہوگی۔خدا کے پیارا ہونے کے لئے ان کے پاس کچھ علامتیں ہونی چاہئیں، کچھ ان کی وفا کے ثبوت ہونے چاہئیں، کچھ دنیا پر ثابت کرنا چاہئے کہ کیوں میں نے اس قوم کو اپنے لئے اختیار فرمایا اور کیوں اس کو تم پر فضیلت دی۔اگر ابتلاؤں کے دور سے مذہبی قومیں نہ گزرتیں تو کوئی کہنے والا یہ کہ سکتا تھا کہ خدا نے ایک کی بجائے دوسرے کو چن لیا چونکہ وہ ساتھ تھاوہ قوم غالب آگئی، ان کے اندر ترجیح کے کوئی خواص نہیں تھے، کوئی استحقاق نہیں تھا جس کی بناء پر ان کو دوسری قوموں پر ترجیح دی گئی۔پس جب وہ خدا کے نام پر طرح طرح کے مصائب کی چکی میں پیسے جاتے ہیں، ہر طرح سے دکھ اُٹھاتے ہیں اور وفا پر اور بھی مضبوطی سے قائم ہو جاتے ہیں آخر وقت تک وہ خدا کا دامن نہیں چھوڑتے۔تو پھر ایسوں کو غالب کرنا اپنی ذات کے اندر ایک ایسی معقول وجہ رکھتا ہے جس کو ایک معمولی نظر رکھنے والا انسان بھی پہچان سکتا ہے۔یہ ایک استحقاق ہے جو ایک معمولی عقل والے کو بھی