خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 424 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 424

خطبات طاہر جلد ۶ 424 خطبہ جمعہ ۲۶/ جون ۱۹۸۷ء حق پرستوں کو بھی تنہا نہیں چھوڑتا اور کبھی مغلوب نہیں رہنے دیتا یہ وہ مرکزی سرچشمہ ہے جہاں سے تو کل اپنی غذا حاصل کرتا ہے۔تو کل ہو تو صبر کو بھی تقویت ملتی ہے کیونکہ اگر مقصد پر یقین نہ رہے اور امید باقی نہ رہے فتح کی تو صبر زیادہ دن انسان کا ساتھ نہیں دے سکتا۔مایوسی اور صبر دو متضاد چیزیں ہیں۔اس لئے تو کل صبر کے ایک کنارے پر کھڑا ہے اور ایک بازو سے صبر کو تقویت دیتا ہے۔اس کے دوسرے کنارے پر تقویٰ ہے اور تقوی سے صبر کو تقویت ملتی ہے۔پس ان دونوں بازوؤں کے مضبوط ہونے کے نتیجے میں صبر مضبوط ہو جاتا ہے اور صبر کے متعلق قرآن کریم بار ہا یہ فرماتا ہے کہ صبر کرنے والے ضائع نہیں جاتے خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے اور بالآخر صبر کرنے والے لا ز ما فتح یاب ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون پر جو روشنی ڈالی ہے وہ مضمون تو بہت ا ہی وسیع ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مختلف وقتوں میں مختلف زاویہ ہائے نظر سے جماعت کے سامنے رکھا لیکن اس میں سے چند اقتباسات میں نے آج کے خطبے میں آپ کے سامنے رکھنے کے لئے چنے ہیں۔جہاں تک ابتلا کا فلسفہ ہے سب سے پہلے اس پر نظر ڈالنی ضروری ہے کہ آخر ابتلا آتا کیوں ہے؟ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر خدا کو کوئی قوم اتنی ہی پیاری ہے کہ لازماً اس کی فتح کی ضمانت دی جاتی ہے اور یقین دلایا جاتا ہے کہ کسی قیمت پر یہ قوم اپنے دشمن سے مغلوب نہیں ہوگی خواہ وہ دشمن کتنا ہی بڑا اور طاقتور کیوں نہ ہو۔تو اگر یہ بالآخر کرنا ہی تھا تو شروع میں ان کو مصیبت میں ڈالنے کی ضرورت کیا تھی ؟ اس فلسفے کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایسے پیارے انداز میں واضح فرمایا ہے کہ یہ عارف باللہ کا ہی حق ہے کہ وہ مضمون پر اس طرح روشنی ڈال سکیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔ابتلا جو اوائل حال میں انبیاء اور اولیاء پر نازل ہوتا ہے اور باوجود عزیز ہونے کے ذلت کی صورت میں ان کو ظاہر کرتا ہے ( یعنی خدا کو بہت پیارے ہوتے ہیں لیکن ہر ابتلا کے دور میں سے گزرتے ہوئے وہ پیارے