خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 423 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 423

خطبات طاہر جلد ۶ 423 خطبہ جمعہ ۲۶/ جون ۱۹۸۷ء ابتلاء کا فلسفہ ( خطبه جمعه فرموده ۲۶/ جون ۱۹۸۷ء بمقام بیت الفضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:۔ابتلا کا یہ عظیم الشان دور جو اس وقت جماعت احمدیہ کو نصیب ہے، اس دور میں حق کے دشمنوں سے مقابلہ کے لئے خدا تعالیٰ نے جو ہمیں ہتھیار عطا فرمائے ہیں ان میں سب سے اول دعا عليسة صلى الله ہے اور اس کے بعد جو متعدد ہتھیار خدا تعالیٰ نے ہمیں دیئے اور قرآن کریم نے اور سنت محمد مصطفی امتار نے ان کو استعمال کے اسلوب بھی سکھائے۔ان میں صبر، تقویٰ اور توکل کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔صبر اور تو کل اور تقویٰ کا مضمون آپس میں ملتا جلتا ہے اور ایک دوسرے کو تقویت دیتا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ تو کل کے بغیر کوئی بھی عظیم لڑائی جیتی نہیں جاسکتی۔دنیاوی قو میں جنگوں میں مصروف ہوں یا روحانی قو میں روحانی مقابلوں میں تو کل کے بغیر دنیا کی کوئی عظیم جنگ بھی جیتی نہیں جا سکتی۔تو کل دنیا کی اصطلاح میں اپنے مقصد کے یقین کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے اور مذہبی اصطلاح میں اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل ایمان کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور صرف کامل ایمان کی وجہ سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے سابقہ سلوک پر نظر کر کے تو کل کو تازہ غذا ملتی رہتی ہے۔دنیا کے تو کل کی کوئی عقلی بنیاد نہیں محض وطینت کے ساتھ ایک گہرا رابطہ، گہر اواسطہ، گہرا لبعض صورتوں میں عشق یہی ان کے اندر تو کل پیدا کرنے کا ذریعہ ہے لیکن کوئی ایسا قطعی تاریخی مشاہدہ ان کو میسر نہیں آتا کہ ہمیشہ ضرور ہر لڑائی میں وہی فتح یاب ہوں گے۔لیکن مذہبی دنیا میں جو تو کل ہے وہ خدا تعالیٰ کی ایک بہت ہی قدیم سنت پر مبنی ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی قدیم سے جو سنت چلی آئی ہے کہ میں اپنے تعلق والوں کو اپنے پیاروں کو