خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 416
خطبات طاہر جلد ۶ 416 خطبہ جمعہ ۱۹ / جون ۱۹۸۷ء نفاق تھا، چندوں کے ڈر سے اور کئی قسم کی ذمہ داریوں کے ڈر سے پہلے ہی کٹ کے الگ ہو چکے تھے۔کچھ ایسے تھے جن میں گندی عادتیں تھیں نشے کی یادوسری چوری ، مالی لین دین میں خرابیاں۔تو عجیب بات ہے کہ جو بھی نیک لوگ ان کے نزدیک جماعت سے مرتد ہو کر تو بہ کر کے اسلام میں داخل ہوتے ہیں وہ کریکٹر کے لحاظ سے جماعت احمدیہ کی ادنی ترین سطح سے بھی تعلق نہیں رکھ سکے اور آخر خود ہی کٹ کے پہلے الگ ہو چکے تھے اور پھر اس پر ایسا فخر کیا جاتا ہے کہ اخباروں میں چھپتا ہے کہ پھر ان کے لئے دیگیں پکائی گئیں، ان کو ہار پہنائے گئے ، مٹھائیاں تقسیم ہوئیں، گلے لگے اور ہمیں جنسی آتی ہے تم ایک جیسے ہو ملتے رہو، آپس میں گلے لگتے رہو کیا فرق پڑتا ہے۔شرم چاہیئے کس قسم کے لوگ تم لے رہے ہو جن پر فخر کر رہے ہو۔اس دور میں جو تم سے ہم لے رہے ہیں ان کے منہ پر تو دیکھو کیسا نور ہے ان کے چہروں پر کتنی عظمت ہے کہ ہاروں کے لئے نہیں ، مٹھائیاں تقسیم کروانے کے لئے نہیں بلکہ ماریں کھانے لئے وہ حق کو قبول کر رہے ہیں ، شدید ذلتیں اٹھانے کے باوجود حق کو قبول کر رہے ہیں۔یہ ہوتے ہیں وہ وجود جو لینے کے لائق ہوتے ہیں۔یہ وہ ہیں جب کسی جگہ داخل ہوں تو ان کے داخل ہونے سے عزتوں میں اضافہ ہوا کرتا ہے، وہ اس لائق ہوتے ہیں کہ ان کا استقبال کیا جائے لیکن ہمیشہ ان کے استقبال دنیاوی شاہانہ طریقوں پر نہیں ہوئے بلکہ اس طرح یہ لوگ ایک جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ ہجرت کر کے گئے کہ ان کے پیچھے پتھر مارنے والے، گالیاں دینے والے ، ان معززین کو ذلیل کرنے والے لوگ پیچھے غول در غول لگے رہے اور ہونا بھی یہی چاہئے کیونکہ دنیا میں سب سے معزز وجود نبی کا ہوا کرتا ہے اور سب سے ظالمانہ استقبال نبی کا ہوا کرتا ہے۔نبی کے آنے پر دیکھیں نہیں چڑھائی جایا کرتیں، نبی کے آنے کے وقت مٹھائیاں نہیں تقسیم کی جاتیں۔نبی وہ ہوتا ہے جو قوم کا ادنی نہیں بلکہ سب سے اعلیٰ وجود ہوتا ہے نبوت سے پہلے اور لوگ کہتے ہیں کہ ہماری تو نظریں تم پر گی ہوئی تھیں، ہماری تو امیدیں ہی تم سے وابستہ تھیں تم نے یہ کیا کر دیا۔ان کے دل کی آواز بتاتی ہے کہ ان میں سے بہترین ہے جو ان کو چھوڑ کر خدا کی خاطر کسی اور طرف ہجرت کر گیا ہے۔چنانچہ اس واقعہ کے بعد نبی کی تمثیل میں اس کی پیروی میں جو بھی آتے ہیں ایسے ہی آتے ہیں لیکن یہ نہیں ہوا کرتا کہ قوم کا وہ حصہ جو اخلاقی لحاظ سے ادنی ترین ہو ، جو رفتہ رفتہ خودہی بے تعلق ہو کر اس لئے ہٹ گیا ہو کہ اس میں اخلاقی ضابطوں کی پابندی کی طاقت نہ ہو۔وہ سمجھتا ہو کہ اس