خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 38
خطبات طاہر جلد ۶ 38 خطبہ جمعہ ۱۶/جنوری ۱۹۸۷ء اب پاکستان میں جو دردناک حالات ہیں، انتہائی طور پر ظالمانہ اور سفا کا نہ مظالم ایک پاکستانی دوسرے پاکستانی پر کر رہا ہے، ایک گروہ دوسرے گروہ پر کر رہا ہے اور اتنی خوفناک حالت ہے ایسی بہیمانہ مظالم ہیں کہ ان کے تصور سے بھی انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔یہ حالت ناممکن ہے کہ ایک مسلمان کی ہو سکے اگر اس کے دل میں اسلام کی تعلیم کا کوئی بھی اثر ہو اور علماء دیکھ رہے ہیں، جان رہے ہیں کہ اسلام کی Negation ، اس کی نفی ہے ان حرکات میں لیکن ان کو اس سے کوئی اثر نہیں ، کوئی فرق نہیں پڑرہا۔حالانکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بنیادی طور پر جو مذہب کے ساتھ لگاؤ ہے جو جذ بہ ہے جو خون کو گرم رکھتا ہے وہ موجود ہے۔چنانچہ انہیں لوگوں کو اگر علماء چاہیں مزید ہلاکت خیزیوں کی طرف منتقل کرنے کی ، خدا کے نام پر خدا کے بندوں پر ظلم کرنے کی تلقین کریں تو گرمی خون کی اتنی ہے کہ وہ فور أخدا کے نام پر خدا کے بندوں کے خون پر بھی آمادہ ہو جائیں گے۔ان کاموں کے لئے تو علماء ہمہ وقت تیار رہتے ہیں لیکن جو نیکی کے کام ہیں جو مقاصد ہیں مذاہب کے اور سارے مذاہب کے یہی مقاصد ہیں۔ان میں سب سے زیادہ شدت کے ساتھ اور غیر معمولی وسعت کے ساتھ نیکی کی تعلیم قرآن کریم نے عطا فرمائی اور آنحضرت نے سب انبیاء سے زیادہ نیکی کے ہر میدان میں آگے بڑھ کر ایسا نمونہ قائم فرما دیا کہ اب کسی کے صلى الله لئے یہ کہنا بھی باقی نہیں رہا کہ انسان ہیں ہم ، ہم میں اتنی طاقت کہاں کہ اتنا آگے بڑھ سکیں۔بشر کا اعلان دراصل اسی وجہ سے کیا گیا ہے قرآن کریم میں۔بعض بے وقوف سمجھتے ہیں کہ مقام کو گھٹانے کے لئے کیا گیا ہے۔مقام کو بڑھانے کے لئے بشر کا اعلان ہے۔یہی بات نہ سمجھنے کے نتیجے میں دیو بندی اور وہابی لوگ آنحضرت ﷺ کی گستاخی تک پہنچ گئے۔اور ایسے ایسے خوفناک جملے کسیں ہیں بشریت پر اور ایسی ایسی ذلیل مثالیں دی ہیں کہ ان کو سن کر رسول اکرم ﷺ کی محبت کی غیرت سے خون کھولنے لگتا ہے لیکن ہمیں صبر کی تعلیم ہے۔جن کو نہیں ہے ان سے پھر ایسی حرکتیں بھی ہو جاتی ہیں جس سے لازما جذبات کا اظہار ہوتا ہے۔مگر حماقت ہے بہت بڑی کہ آنحضرت ﷺ کی بشریت کے ذکر کا مفہوم نہیں سمجھ سکے۔بشر اس لئے فرمایا جارہا تھا کہ اتنا عظیم الشان ہونے کے باوجود بشر ہے تمہیں خوشخبری ہو اس بات کی کہ تم میں خدا تعالیٰ نے کتنی صلاحیتیں رکھی ہیں اور کوئی کام بھی انسان کے لئے ناممکن نہیں ہے جو حضرت محمد مصطفی ﷺ نے بشر ہوتے ہوئے ممکن کر کے دکھا دیا۔یہ خوشخبریوں کا دروازہ کھولا جارہا تھا اُسے فتنوں اور جھگڑوں کا دروازہ سمجھ کر اس میں قتل وغارت کے لئے داخل ہو رہے ہیں، نفرتیں پھیلانے کے