خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 412
خطبات طاہر جلد ۶ 412 خطبہ جمعہ ۱۹ جون ۱۹۸۷ء کوشش کرتے ہیں اتنا ہی جماعت اور زیادہ تیزی کے ساتھ آنحضرت ﷺ کے قدموں کی طرف لپکتی اور آپ سے چمٹ رہی ہے، کوئی دنیا کی طاقت آنحضرت ﷺ سے جماعت کی محبت کو مٹا نہیں سکتی جماعت کے تعلق کو کاٹ نہیں سکتی۔ہر اس کوشش کے نتیجے میں ایک رد عمل پیدا ہوتا ہے جماعت اور بھی زیادہ اپنے آقا و مولا کے قدموں میں قریب تر ہوتی چلی جاتی ہے۔یہ ہے وہ صورتحال اور جو بدنما کر یہ المنظر اسلام کے نام پر ہونے والے واقعات ہیں ان کا نقشہ بھی سن لیجئے۔ابھی چند دن پہلے علی پور چٹھہ میں پولیس کی معیت میں، پولیس کی حفاظت میں چند ملانوں اور ان کے شاگردوں کا ایک ٹولہ مسجد پر حملہ آور ہوا اور باقاعدہ پولیس ساتھ ان کے مددگار تھی اور اس بات کی نگران تھی کہ کوئی احمدی اپنے دفاع میں ان کو ضرب نہ لگا دے اور سارا مربی کا سامان اور مسجد کا سامان ، قرآن کریم اور ایسی کتابیں جن میں قرآن کریم کی آیات یا احادیث درج تھیں ان کی انتہائی طور پر ہتک کی گئی۔جو بھی رویہ اختیار کیا گیا وہ تفصیل بیان کرنے سے انسان گھبراتا ہے، تکلیف محسوس کرتا ہے۔بالآخر کوڑا کرکٹ کی طرح اکٹھا کر کے ان کے ڈھیر کو آگ لگا دی گئی اور یہ ہے اسلام کی محبت اور اسلام سے عشق کا مظاہرہ جو اس وقت پاکستان میں ہورہا ہے اور کسی کو وہم بھی نہیں آتا کہ یہ اسلام نہیں ہے یعنی بدبختی کا حال یہ ہے کہ اتنا ظلم کر کر کے اتنی بار بار ایسی بیہودہ باتیں کر کر کے عوام کے مزاج کو مسخ کر دیا گیا ہے۔وہ بیچارے بیچ مچ یہ سمجھتے ہیں کہ اس کے بعد ہم جنت میں جانے کے لائق ہو جائیں گے۔گویا کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت کا مقصد ہی یہ تھا کہ اس زمانے میں تو ایسے لوگ پیدا نہیں ہو سکے لیکن چودہ سو سال کے بعد نعوذ باللہ خدا تعالیٰ آپ کو ایسے غلام عطا کرے گا جو مسجدوں پر حملے کریں گے، قرآن کریم کی بے عزتی کریں گے، ان کو جلائیں گے، لوگوں کے مال لوٹیں گے اور ظلم کریں گے عوام الناس پر، بچوں پر ، عورتوں پر۔ایسے لوگ جب پیدا ہوں گے اس وقت اسلام کامیاب ہوگا۔یہ تصور ہے جو یہ آج اسلام کی طرف منسوب کر رہے ہیں۔اپنے جو دماغ بگڑ گئے یا سخ ہو گئے اس حد تک بات رہنے دیتے تو اور بات تھی۔کھلے بندوں علماء یہ تقریریں بھی کر رہے ہیں اور یہ تحریریں بھی چھپوا کر شائع کر رہے ہیں ساری دنیا میں کہ یہی اسلام ہے ، اسی کے نتیجے میں جنت کی ضمانت دی جائے گی اور بعض بد نصیب تو یہ بھی اعلان کرتے ہیں کہ تم جتنا زیادہ ان باتوں میں آگے