خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 411
خطبات طاہر جلد 1 411 خطبه جمعه ۱۹ جون ۱۹۸۷ء دیوالیہ پٹ جائے اور کوئی حس نہ ہو ، کوئی ادنی سا بھی احساس نہ ہو کہ میں نے اس ملک کو کہاں سے پکڑا تھا اور کہاں پہنچا چکا ہوں ۔ لیکن جہاں تک جماعت کا تعلق ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے مظالم جاری ہیں اور جماعت کو بزدل اور کمزور بنانے کی بجائے اور زیادہ جرات بخشتے چلے جارہے ہیں ، حوصلہ دے رہے ہیں۔ بعض لوگ بعض جگہ تھک بھی چکے ہوں گے لیکن پھر جب ان کو سنبھالا جاتا ہے، ان سے بات کی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی جلدی حوصلہ پا جاتے ہیں اور میری خواب میں وہی مضمون ہے جس کا میں آئندہ ذکر کروں گا۔ لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا اکثر تو یہ حالت ہے کہ جن کے دکھ کا تذکرہ کریں وہ اس تذکرے پر اور بھی دکھ محسوس کرتے ہیں، یہ احمدیت کی سچائی کی ایک عظیم الشان دلیل ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ دنیا کی لیڈرشپ میں اس قسم کی محبت اور یار کا کوئی تعلق آپ کو دکھائی نہیں دے گا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے زمانے میں جب ایک صحابی کو جو غالباً ان ستر صحابہ میں سے ایک تھا ، جو حفاظ عروسه بجھوائے گئے تھے ایک وفد کے طور پر ، ان کو جب شہید کیا جانے لگا تو ایک شخص نے مجمع میں اس کی شہادت صلى الله صلى الله سے پہلے اس سے پوچھا کہ تم مجھے یہ بتاؤ کہ اب تو تمہارا دل ضرور چاہتا ہوگا کہ تمہاری جگہ نعوذ بالله حضرت محمد مصطفی ہوتے ، اس نے تو خالی محمد ہی کہا اور تم ان کی جگہ آرام سے مدینے میں بیٹھے ہوتے۔ اس نے کہا تم یہ کیا بات کر رہے ہو؟ خدا کی قسم! میرا تو یہ بھی دل نہیں چاہ سکتا، میں تو اس کا بھی تصور نہیں کر سکتا کہ یہاں تم میری جان بخشی کر دو اور اس کے بدلے محمد رسول اللہ ﷺ کو مدینے کی گلیوں میں ایک کانٹا بھی چھ جائے ، میں تو اس سودے کے لئے بھی تیار نہیں ہوں۔ (سیرۃ حلبیہ جلد ۳ صفحہ ۱۷۰) صلى الله صلى الله پس اگر کسی قوم میں جو آنحضرت ﷺ کی طرف وابستہ ہوتی ہو خلوص ہو اور رسول اکرم سے پیار ہو اور آپ کی تربیت کے نیچے ہو اس قوم میں تو ایسے واقعات پیدا ہو سکتے ہیں ۔ یہ آنحضرت ہی کے غلاموں کا ہی حسن ہے اس کے سوا آپ کو یہ سن دنیا میں نہیں دکھائی دے سکتا علی صلى الله دوسرے اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ ان پاکستان کے حالات میں کثرت کے ساتھ صحابہ کے اس خلق کو دوبارہ زندہ کر دینا اور وہ ماضی کے قصے جو ہم سنا کرتے تھے ان کو حال کی دنیا میں اتار لینا آسمان سے یہ آنحضرت ﷺ کے سچے غلاموں کے سوا کسی کو توفیق مل ہی نہیں سکتی۔ پس جتنا یہ ہمیں ہمارے آقا و مولا حضرت اقدس محمد مصطفی علی سے کاٹ کر دور پھینکنے کی دوری