خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 407 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 407

خطبات طاہر جلد ۶ 407 خطبہ جمعہ ۱۹/ جون ۱۹۸۷ء معین ہدایت دی جاتی ہے۔چنانچہ ڈی آئی جی پولیس فیصل آباد ریجن کی طرف سے یہ جو تحریری ہدایت جاری ہوئی کہ احمد یہ جماعت کے سر براہ اور دوسرے تمام چوٹی کے لیڈروں کے خلاف پرچہ درج کرو یہ ہدایت تحریری ہمارے پاس موجود ہے۔اس سطح پر تو یہ تحریری ہدایات دینے پر مجبور ہو چکے ہیں یعنی یہ وہ باتیں ہیں جن کے متعلق ایک تھانیدار ایک سپاہی کو بھی تحریری ہدایت دینے پر آمادہ نہیں ہوتا کہ کلمہ کے خلاف پرچہ درج کر دیا بسم اللہ لکھنے کے خلاف پرچہ درج کرو بلکہ جہاں تک سپاہیوں کا تعلق ہے ان میں ایمانی غیرت زیادہ ہے اور حیرت کی بات ہے کہ افسروں کا یہ حال ہو چکا ہے اور ہر سطح کے افسروں کا یہ حال ہو گیا ہے لیکن ایک جگہ کی پولیس کے متعلق ابھی تازہ خبریں آئی ہیں کہ انہوں نے بالکل صاف انکار کر دیا ہے کہ کلمہ مٹانا ہے تو آپ مٹاؤ یا چوہڑوں کو لے کے جاؤ ہم یہ کام نہیں کر سکتے ہم مسلمان ہیں اور ہم کسی قیمت پر بھی یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ہمیں کلمہ مٹانے کی نوکری ملی ہوئی ہے۔اس لئے نوکری تم اپنے گھر رکھو اگر فارغ کرنا ہے فارغ کر ولیکن کلمہ ہم نہیں مٹائیں گے۔چونکہ پاکستانی پولیس میں شروع سے ہی یہ روایات چلی آرہی ہیں کہ باقی کمزوریاں ہوں تو ہوں لیکن نماز کا معیار پولیس کا مجھے یاد ہے تقسیم سے پہلے بھی کافی اونچا ہوا کرتا تھا اور جتنے بھی تھانے تھے ان میں با قاعدہ نماز پڑھی جاتی تھی۔کچھ اپنی دوسری زیادتیوں کے لئے شاید معافی مانگنے کی وجہ سے جو توجہ پیدا ہوتی ہے اس سے ان کو نماز کی طرف رغبت پیدا ہوگئی مگر بہر حال کسی وجہ سے بھی ہوئی ہو ایک روایت چلی آرہی ہے کہ شاید یہ اسی کی برکت ہے کہ نچلی سطح کا پولیس کا سپاہی بہت زیادہ شرافت دکھا رہا ہے اور اپنی نوکری کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بھی وہ بہت سے مظالم سے باز رہتا ہے یا بازرکھنے کے لئے اپنے افسروں کو کہتا ہے لیکن اوپر کی سطح پر ایسے واقعات شاذ کے طور پر ہیں۔وجہ کیا ہے جو یہ اتنا لمبا عرصہ چل گیا ہے؟ یہ سوال اٹھتا ہے۔جہاں تک میں نے تجزیہ کیا ہے اس کی بنیادی وجہ تو حکومت کی کمزوری اور یہ احساس کمتری جو دن بدن زیادہ شدت اختیار کرتا چلا جارہا ہے کہ ہم غاصب ہیں، ہم نے ملک پر قبضہ کیا ہوا ہے جبکہ عوام ہمیں نہیں چاہتے ،عوام الناس کی بھاری اکثریت ہمیں رد کر چکی ہے۔جس نام سے بھی ہم حکومت کرنا چاہیں یہ کھلی حقیقت ہے اور ملک جانتا ہے کہ ہم بے وجہ ناجائز حکومت پر قابض ہیں۔اس احساس کمزوری کی وجہ سے وہ دوطبقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ایک وہ ہے جو سمجھتا ہے کہ اگر علماء کو خرید کر اور علماء کا ہیرو بن کر بار باراحمد بیت پر مظالم