خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 386 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 386

خطبات طاہر جلد ۶ 386 خطبہ جمعہ ۵/ جون ۱۹۸۷ء کی چیز کو میں نے اس دنیا میں نہیں جانے دینا لیکن ان کے سوا باقی چیزیں ایسی ہیں جن کے اوپر بڑے پہرے کھڑے ہیں۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ اس دنیا میں خرچ کر لو۔ہم ضامن ہیں کہ اس دنیا میں تمہارے نام پر منتقل کریں لیکن اگر نہیں خرچ کرو گے تو زمین و آسمان کے برابر بھی سونے اگر تم پیش کرو گے خدا کے حضور تو وہ قبول نہیں کئے جائیں گے۔کوئی آدمی کہہ سکتا ہے کہ اس دنیا میں ہم سونے ہم کس طرح پیش کر سکتے ہیں۔اس دنیا میں تو سونے پیش نہیں ہو سکتے۔اس لئے ایک معنی اس کا یہ ہے کہ جب وقت تھا، سونے پیش کئے جاسکتے تھے اس وقت ہم نے تم سے سونے کے پہاڑوں کا مطالبہ نہیں کیا تھا ایک ایک ریزہ جو تم خدا کے حضور سونے کا پیش کر سکتے تھے اور کیا خدا نے اس کو بھی قبول فرمایا اور پہاڑوں میں بدل دیا۔اب اس کے برعکس صورتحال ہے اب پہاڑ بھی پیش کرو یعنی عقلی طور پر یہ بات اٹھائی جائے تب بھی وہ قبول نہیں کئے جائیں گے یا کوئی یہ کہہ دے کہ نہیں گزشتہ ساری جائیداد جو میں چھوڑ کے آیا ہوں وہ اب قبول کر لے میری اولا دکو بے شک محروم کر دے یہ بھی قبول نہیں ہو گا۔تو یہ دود نیاؤں کے درمیان جو حد فاصل ہے قرآن کریم نے کھول دیا ہے کہ ٹیرف (Tariff) کے قوانین کیا ہیں کون سی چیزیں یہاں سے گزر کے اس جگہ جاسکتی ہیں اور کون سی چیزیں روک دی جائیں گی اور کوئی Bribery ،کوئی رشوت، کوئی سفارش کام نہیں آئے گی کیونکہ جن فرشتوں کے پہرے ہیں اس نظام پر وہ فرشتے کسی قیمت پر اس دنیا کی چیز اس دنیا میں منتقل نہیں ہونے دیں گے سوائے نیکیوں کے رضائے باری تعالیٰ کے اور ان اخراجات کے لئے جو آپ یہاں کر چکے ہیں وہ ضرور منتقل ہوں گے یعنی خدا کی راہ میں کئے جانے والے اخراجات۔اس لئے اس بات کو سمجھیں آپ کے فائدے کی باتیں ہونگی۔اس دنیا میں بھی آپ کے فائدے کی باتیں ہیں، اس دنیا میں بھی آپ کے فائدے کی باتیں ہیں۔نفس کے تزکیہ کے لحاظ سے بھی آپ کے پاس فائدے کی باتیں ہیں اور اموال میں نشو ونما کے لحاظ سے بھی آپ کے فائدے کی باتیں ہیں۔یہ وہ سودے ہیں جن میں نقصان کا کوئی امکان نہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے۔آمین۔