خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 385
خطبات طاہر جلد ۶ 385 خطبه جمعه ۵/ جون ۱۹۸۷ء کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے اپنے گردو پیش میں اپنے ساتھیوں سے اس موضوع کو چھیڑیں گے تو آپ حیران ہوں گے سن کر کہ کثرت کے ساتھ ساری دنیا میں تمام جماعتوں میں ایسے خدا کی رحمت کے گواہ پیدا ہو چکے ہیں اس زمانے میں جو گواہی دے سکتے ہیں کہ غیر معمولی حالات میں اللہ تعالیٰ نے معمولی معمولی ادنیٰ قربانیوں کو قبول کرتے ہوئے بے انتہا فضل نازل فرمائے ہیں۔ڈرنے کی کون سی بات ہے، بے حوصلگی کا کون سا موقع ہے۔بدظنی کر کے خدا تعالیٰ پر آپ اپنا نقصان کر رہے ہیں اور ان لذتوں سے محروم ہورہے ہیں جو مالی قربانی کے ساتھ وابستہ ہیں اور وہ لذتیں اپنی ذات میں اتنی عظیم ہیں کہ ان کے بعد جو روپیہ ملتا ہے خدا کے فضل کے ساتھ اس کی قیمت بھی کوئی نہیں رہتی انسان کی نظر میں۔محض خدا کی خاطر قربانی کر دینے کا فعل ہی اپنے اندر اتنی لذت رکھتا ہے کہ وہ خود اپنا اجر ہے اور صاحب تجر بہ آدمی کو پتا ہے کہ اس اجر کے بعد انسان موجوں میں رہتا ہے کہ ہاں مجھے لطف آ گیا میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اپنے رب کے حضور کچھ پیش کیا ہے اس کے پیار اور اس کی محبت کے نتیجے میں اور مشکل حالات میں۔وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ (الحشر: ۱۰) میں ان لوگوں میں داخل ہو گیا ہوں جن کے اوپر خصاصت تھی، جن کے اوپر تنگی تھی پھر بھی خدا کی محبت کی خاطر میں اس مقدس گروہ میں داخل ہو گیا کہ اس کے لئے میں نے کچھ قربانی دی۔پیش نظر یہ مطمح نظر رکھیں ، یہ اعلیٰ مقصد رکھیں کہ خدا کے پیار کی نگاہ مجھ پر پڑے۔اس کی رضا کی جنت میں میں داخل ہو جاؤں کیونکہ خدا کے پیار کی نگاہ اور خدا کی رضا کی جنت دائمی ہوتے ہیں لیکن مالی فضل خواہ کتنا بڑا بھی ہو اس کے دائمی ہونے کی کوئی ضمانت نہیں اور اگر آپ کی زندگی تک وفا بھی کرے تو پھر ساتھ آگے نہیں جائے گا سب کچھ پیچھے چھوڑنا پڑے گا لیکن رضا کی جنت ایسی ہے جو اس دنیا میں بھی ملتی ہے اور اگلی دنیا میں آپ کے ساتھ جاتی ہے۔خدا کے پیار کی نگاہ اس دنیا میں بھی آپ پہ پڑتی ہے اور اگلی دنیا میں اس سے زیادہ شدت کے ساتھ پڑتی ہے اس کے درمیان کوئی بیرئیر (Barrier) نہیں ہے، کوئی ایسا ملک نہیں ہے جس کا قانون رستے میں کھڑا ہو کہ اس دنیا سے ہم نے خدا کی رضا کو آگے نہیں جانے دینا یا اس دنیا سے ہم نے خدا کی محبت اور پیار کی نگاہوں کو آگے نہیں جانے دینا۔وہ دونوں ملکوں کا بادشاہ ہے، اس دنیا کا بھی اور اس دنیا کا بھی۔اس لئے ان دونوں کے درمیان واقع ہونے والی سرحد پر کوئی پہرہ نہیں ہے جو رستے میں حائل ہو جائے اور کہہ سکے کہ نہیں اس دنیا