خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 384 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 384

خطبات طاہر جلد ۶ 384 خطبه جمعه ۱۵ جون ۱۹۸۷ء ہوا تھا کہ میرا کاروبار جو ہمیشہ تین لاکھ کے پھیر میں رہتا تھا ٹھیکوں کے وہ ایک سال کے اختتام سے پہلے تیس چالیس لاکھ تک پہنچ گیا اور اب میں نے کام لینے چھوڑ دیئے ہیں کیونکہ میں سنبھال ہی نہیں سکتا اور یہ دس ہزار کی ادائیگی مجھے پتا بھی نہیں لگا کہ کیسے ادا ہے۔ اس سے بھی زیادہ ایک اور عظیم الشان مثال زیادہ دلچسپ مثال یہ ہے کہ آنے سے پہلے لندن میں ایک دوست میرے پاس آئے اور ان کے ہاتھ میں دو چیک تھے ایک پینتالیس ہزار پاؤنڈ کا اور ایک چالیس ہزار پاؤنڈ کا۔ میں نے کہا یہ کیسے چیک ہیں تو انہوں نے کہا اس چیک کے ساتھ ایک کہانی وابستہ ہے وہ پہلے سن لیں پھر آپ کو بات سمجھ آجائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ نے تحریک کی صد سالہ جو بلی کے لئے تو اس میں اس قسم کے الفاظ تھے کہ تاجر جو ہیں وہ بھی حوصلہ کریں خدا کی راہ میں قربانی کے لئے ہمت دکھا ئیں ، دیکھیں تو سہی کہ خدا تعالی کس طرح غائبانہ مدد کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں اس سے میرے دل پر اتنا گہرا اثر پڑا کہ میری تجارت چھوٹی تھی باوجود اس کے کہ میرے پاس پیسہ نہیں تھا میں نے بنک سے ایک لاکھ قرض لیا اور چندہ ادا کر دیا۔ اس واقعہ کو چار سال گزرے ہیں کہتے ہیں اب اس وقت میرا سالانہ جو چندہ عام بنتا ہے وہ کچھ میں جماعت میں با قاعدہ ادا کرتا رہا ہوں اب سال کے آخر پر جو میں نے حساب کیا ہے تو پینتالیس ہزار پاؤنڈ میرے ذمہ بن رہا ہے چندہ عام کا جو میں اب ادا کر رہا ہوں۔ چار سال پہلے جو ایک لاکھ چندہ ادا کرنے کے لئے قرض لے رہا تھا اور اس کو بہت ہی بڑا تیر سمجھ رہا تھا کہ میں نے تیر مار دیا ہے قربانی کا ۔ اب وہ بیک وقت سولہ لاکھ کہ لگ بھگ چندہ بقایا ادا کر رہا ہے سارا چندہ شامل نہیں ہے اس میں ۔ دوسرے اس نے کہا کہ شکرانے کے طور پر میں نے فیصلہ کیا کہ جس تحریک کی وجہ سے خدا نے اتنی عظیم برکت ڈالی ہے اس چندے کو میں بڑھا دوں چنانچہ میں نے پچاس ہزار پاؤنڈ مزید صد سالہ جو بلی کا دینے کا فیصلہ کیا تھا دس ہزار میں ادا کر چکا ہوں بقیہ چالیس ہزار پاؤنڈ کا یہ چیک میں ابھی آپ کے لئے لے کے آیا ہوں ۔ یہ واقعات ابھی دو تین دن کے ہیں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے لندن سے چلنے سے ایک دو دن پہلے کی بات ہے۔ یہ واقعہ اور یہ خط آتے ہوئے مجھے ملا تھا میں نے ہادی علی پرائیویٹ سیکرٹری کو پکڑا دیا کہ وہاں جا کے مجھے دے دینا، جمعہ پر یاد کرا دینا ۔ آئے دن روز مرہ یہ باتیں ہو رہی ہیں جماعت میں اور بڑی بھاری تعداد میں خدا کی رحمتوں کے گواہ موجود ہیں ہمارے اندر۔ آپ کو