خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 383
خطبات طاہر جلد ۶ 383 خطبه جمعه ۵/ جون ۱۹۸۷ء ایسے ہیں جو اپنی شرح کے مطابق پورا چندہ نہیں دیتے اور اگر وہ دیں تو چندہ کئی گنا زیادہ بڑھ جائے۔ہم ان کو نام بنام مخاطب نہیں ہو سکتے کیونکہ ان کا ایک خط ہے اخفاء کا اور ستاری کا۔اس پردے کو پھاڑ نا ہمارا کام نہیں ہے لیکن خطبات میں خلیفہ وقت یہ تو کر سکتا ہے کہ عمومی تحریک کرے اور بار باران کے دل کو جھنجھوڑنے کی کوشش کرے اور ان کو ان سعادتوں کی طرف متوجہ کرائے جن سے وہ محروم رہتے چلے آرہے ہیں۔یہ طبقہ اگر شامل ہو جائے تو میں یقین کے ساتھ کہ سکتا ہوں کہ آئندہ چند ماہ جو اس سال کے باقی ہیں ان میں ہی وہ ساری کمیاں پوری ہو سکتی ہیں جو گزشتہ بیان کردہ طبقات کی کمزوری یا دیر میں شامل ہونے کے نتیجے میں ہمارے سامنے آ رہی تھیں اور ابھی بھی میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے مختلف ممالک کے بجٹ ان کی توقعات سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔دوسرے اس طبقے کو مخاطب کر کے میں پھر یہ یاد دہانی کروانا چاہتا ہوں کہ آپ کے یہ خدشات جھوٹے ہیں کہ آپ اگر شرح کے مطابق چندے دیں گے تو آپ کے اموال میں نا قابل تلافی نقصان پہنچ جائے گا اور آپ کی تجارتوں پر برا اثر پڑے گا۔یہ وہم ہے، یہ خدا پر بدظنی ہے، یہ سلسلے کے لمبے تجربے کے بالکل مخالف بات ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو خدا کی راہ میں خالص تقویٰ کے ساتھ خدا کی محبت کو اور اس کی رضا کی نگاہ کو سامنے رکھ کر قربانی دیتے ہیں ان کے اموال میں کبھی بے برکتی نہیں ہوتی۔غیر متوقع راہوں سے خدا ان کے اموال میں برکت پہ برکت دیتا چلا جاتا ہے۔اس کے اتنے بکثرت مشاہدات ہیں کہ جماعت احمدیہ میں تو ایک جاری سلسلہ ہے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا اور اس کے نشانات کا جو دن بدن بڑھتا چلا جا رہا ہے۔تاجروں کے طبقے سے تازہ ، ابھی دو تین دن کی ڈاک کے اندر، جو مجھے بعض باتیں ملیں میرے ذہن میں تازہ ہیں جو میں دو مثالیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں اس سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ جو لوگ خدا کے لئے قربانی کا حوصلہ کرتے ہیں خدا تعالیٰ ان سے بے وفائی کبھی نہیں کرتا۔ایک دوست نے مجھے لکھا کہ ایک انسپکٹر مال صاحب نے اندازہ لگا کر میرے متعلق کہ میری اتنی آمد ہو گی ٹھیکیدار ہوں، اتنا بڑا کاروبار ہے مجھے کہا کہ آپ دس ہزار چندہ کیوں نہیں لکھاتے تو میں نے اسے کہا کہ توفیق نہ بھی ہو تو لکھواؤں؟ اس نے مجھ سے یہ بحث نہیں کی کہ توفیق ہے کہ نہیں۔اس نے کہا پھر بھی لکھوادیں دیکھیں خدا کیا فضل کرتا ہے۔کہتے ہیں میں نے لکھوادیا اور سال پورانہیں