خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 382
خطبات طاہر جلد ۶ 382 خطبه جمعه ۱۵ جون ۱۹۸۷ء بتائیں کہ تمہارے لئے روحانی ترقی کی یہ وہ راہیں ہیں جو قرآن نے اور محمد مصطفی ﷺ نے چودہ سو سال پہلے سے کھول رکھی تھیں ۔ ہم وہ خوش نصیب ہیں جو صاحب تجربہ ہو چکے ہیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ ان قربانیوں کے نتیجے میں غیر معمولی عظمتیں نصیب ہوتی ہیں اور خدا کی رضا کا انسان حامل بن جاتا ہے۔ تم بھی محروم نہ رہو تم بھی شامل ہو۔ ہاں اگر تم میں ابھی توفیق نہیں کہ زیادہ شامل ہو سکو تو دعا کرو، استغفار کرو اور جتنی ہمت پاتے ہو خلیفہ وقت کو لکھ کر اجازت لو کہ میں اس شرح سے ادا کیا کروں گا اور اس کے بعد اس پر قائم رہو۔ اگر جماعت اس فرض کو ادا کرے تو گزشتہ چند سالوں میں اس کثرت کے ساتھ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ احمدیت میں داخل ہونے کا رجحان پیدا ہو چکا ہے کہ دیکھتے دیکھتے نئے آنے والوں کی وجہ سے ہی ہماری بہت سی مالی ذمہ داریاں احسن رنگ میں ادا ہونی شروع ہو جائیں گی ۔ اس کے علاوہ ایک اور طبقہ ہے جس کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں وہ ہے تاجروں کا اور دوسرے پیشہ وروں کا جن کو خدا تعالیٰ نے غیر معمولی استطاعت بخشی ہوئی ہے۔ میں بار باران کو متوجہ ہو کر پہلے بھی کہہ چکا ہوں اور اب بھی اس بات کو دہراتا ہوں کہ آپ سے بہتر کوئی نہیں جانتا کہ خدا نے آپ کو کتنی توفیق بخشی ہے اور خدا سے بہتر کوئی نہیں جانتا کہ کیا آپ اس توفیق کے مطابق ادا کر بھی رہے ہیں کہ نہیں ۔ پہلی بات میں جب میں نے کہا آپ میں سے کوئی نہیں جانتا تو خدا کا استثناء تھا لیکن دوسری بات میں جب میں نے یہ کہا تو اس میں آپ بھی شامل ہیں کہ خدا سے بہتر کوئی نہیں جانتا مانے کہ آپ واقعہ توفیق کے مطابق ادا کر رہے ہیں کہ نہیں۔ یہ میں نے اس لئے کہا کہ بسا اوقات انسان کہ لئے او اپنے نفس کو خود دھو کے میں مبتلا کر دیتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میری توفیق یہ ہے حالانکہ اس کی توفیق عند اللہ زیادہ ہوتی ہے۔ اس لئے اس طبقے کو میں مخاطب اب پھر کرتا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں ابھی ان میں ایک بڑی تعداد ایسی موجود ہے جو ہرگز شرح کے مطابق چندہ نہیں دے رہے اور زائد چندوں میں بھی جتنی توفیق ہے اتنا حصہ نہیں لے رہے۔ پاکستان میں ایسے لوگ نسبتاً کم ہیں کیونکہ وہاں ایک لمبی تربیت کی وجہ سے مالی قربانی کا معیار ما شاء اللہ بہت ہی بلند ہو چکا ہے لیکن پھر بھی موجود ہیں۔ بیرونی دنیا میں نسبتاً زیادہ ہیں۔ ایک ملک کی مجلس عاملہ کے اہم ممبران نے جائزہ لیا تو مجھے ان میں سے بعض نے لکھا کہ ہم بڑے وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ بظاہر ہمارا ملک خدا کے فضل سے اتنا آگے بڑھ چکا ہے لیکن ابھی 3/4 احمدی