خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 381
خطبات طاہر جلد ۶ 381 خطبه جمعه ۱۵ جون ۱۹۸۷ء طلبی کی اور سیکرٹری مال کی بھی جواب طلبی کی کہ خدا ان کو سعادت بخش رہا ہے، ان کو اس بات کا فہم ہے کہ مالی قربانی کے نتیجے میں کچھ کھویا نہیں جاتا بلکہ حاصل ہوتا ہے تم کون ہوتے ہو ان کو اس سعادت سے محروم کرنے والے؟ تم سے زیادہ خدا رحم کرنے والا ہے۔ تمہارے رحم سے تو ان کو کچھ بھی نہیں ملے گا۔ ایک انسان کے رحم سے کیا مل سکتا ہے انسان تو ایک فقیر اور ایک ذلیل زمین کے کیڑے پر بھی بعض دفعہ رحم کی نگاہ ڈال دیتا ہے۔ اس سے اس کا کچھ نہیں بنتا ان کو خدا کو رحم کیوں نہیں حاصل کرنے دیتے۔ جب یہ خدا کی خاطر دکھ اٹھاتے ہیں اور ایسے درد ناک حالات میں قربانی کرتے ہیں تو تم سمجھتے ہو کہ تمہارا دل تو حرکت میں آگیا اور خدا کا دل حرکت میں یا خدا کی روح ، جو بھی اس کو نام دیا جا سکتا ہے وہ حرکت میں نہیں آئے گی؟ اس کے علاوہ بہت سے ایسے جماعت میں نئے داخل ہونے والے ہیں جو گزشہ کئی سال سے داخل ہوئے یا ہو رہے ہیں اس عرصہ میں لیکن احباب جماعت ان کو اپنی طرف سے اس ٹھوکر سے بچانے کے لئے کہ کہیں ان سے مالی قربانی کی بات کی گئی تو پیچھے نہ ہٹ جائیں۔ ان پر یہ ظلم کر دیتے ہیں کہ ان کو چندوں کے نظام سے پوری طرح آشنا نہیں کرتے اور ان کو ان قربانیوں کی طرف متوجہ نہیں کرتے جو ان کا حق ہے۔ مالی قربانی کے لئے فرض کا لفظ اتنا موضوع نہیں جتنا حق کا لفظ ہے ۔ چنانچہ قرآن کریم نے ہمیں یہ نقطہ سمجھایا فرمایا: وَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ (الذاریات: ۲۰) حق کہہ کر بتایا کہ ان کے اموال میں حق ہے اور یہ بات کھلی رہنے دی کہ کس کا حق ہے۔ لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ ادا کرنے کا ان کا حق ہے یا سائل و محروم کا حق ہے کہ ان کے مال سے لے عین بیچ میں اتنی خوبصورتی کے ساتھ اس مضمون کو رکھ دیا کہ دونوں طرف چل جاتا ہے۔ وہ لوگ جو تقویٰ کو اعلیٰ مقام رکھتے ہیں وہ یہ سمجھیں گے اس آیت سے کہ ہمارا حق ہے کے سائل اور محروم کے لئے ہم اپنے اموال میں سے کچھ پیش کریں یعنی خدا نے یہ ہمیں سعادت بخشی ہے اور وہ لوگ جو نسبتاً کم معیار پر ہیں وہ یہ معنی لے سکتے ہیں کہ سائل اور محروم کا ہمارے اموال میں حق داخل ہو گیا ہے جب تک ہم ادا نہیں کریں گے ہم اس کی ذمہ داری ادا نہیں کریں گے۔ بہر حال میں ذاتی طور پر یہ زیادہ پسند کرتا ہوں کہ مالی قربانیوں کو حق قرار دیا جائے کیونکہ امر واقعہ یہ ہے کہ یہ سعادت ہے یہ بوجھ نہیں ہے۔ پس جو نئے داخل ہونے والے احمدی ہیں جماعت کو چاہئے کہ جس قدر جلد ممکن ہو ان کو یہ