خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 34
خطبات طاہر جلد ۶ 34 34 خطبہ جمعہ ۹ / جنوری ۱۹۸۷ء دکھاؤں گا کہ تمہارے وقت کے ساتھ جماعت کا وقت باندھا تھا اور تم نے پرواہ نہیں کی کہ اس جماعت کا وقت پہلے سے زیادہ بہتر ہوتا چلا جائے اور آپ میں سے ہر ایک جوابدہ ہے اپنے وقت کے لئے اور اپنے ماحول کے لئے جوابدہ اور ہر امیر جوابدہ ہے اپنی جماعت کے لئے اور ہر عہدے دار جوابدہ ہے اپنی جماعت کے وقت کے لئے جہاں تک اس کے شعبے سے تعلق ہے۔کئی لوگوں کو میں نے دیکھا ہے کہ کئی علاقوں میں مثلاً بعض علاقائی جماعتیں ہیں، بعض شہری جماعتیں ہیں، وہاں سے یہ اعتراض ملتے رہتے ہیں کہ جی امیر نے تو دس چار آدمیوں کے ساتھ ایک عاملہ بنائی ہوئی ہے اور سب کچھ ان کے ہی ہاتھ میں ہے اور باقی جماعت کی پرواہ ہی نہیں کرتے۔اگر جماعت کے وقت کی پوری قیمت لی جائے تو کہیں یہ اعتراض پیدا ہی نہیں ہوسکتا۔اتنا زیادہ کام ہے ہر شعبے کا کہ یہ بحث تو چل سکتی ہے جیسے انگلستان میں چلتی ہے اکثر دیکھا گیا ہے کہ جی فلاں آدمی مجھے چاہئے وہ لیکر جا رہا ہے۔فلاں آدمی مجھے چاہئے وہ فلاں لیکر جا رہا ہے۔آدمیوں کی تلاش میں پھر رہے ہیں لوگ کیونکہ کام زیادہ ہے اور جو آدمی مہیا ہیں وہ پورا نہیں آسکتے۔یہ اعتراض کس طرح پیدا ہو گیا کہ کام کے لئے صرف چند آدمی ڈھونڈے ہوئے ہیں اور باقیوں سے کام نہیں لیا جارہا۔عہدہ اور چیز ہے کام اور چیز ہے یہ تو ناممکن ہے کہ امیر اپنے وقت کا خیال کر رہا ہو اور اپنے وقت کی قیمت پہچانتا ہو اور یہ احساس بھی رکھتا ہو کہ اب صرف میرا وقت میرا نہیں رہا بلکہ میری ساری جماعت کا وقت میرا بن گیا ہے۔اس کے اس احساس کے بعد یہ اعتراض اس پر ہورہا ہو، بعض لوگ کہہ رہے ہوں کہ جی ہم سے کام نہیں لیا جاتا ، چند آدمی ہیں جو آپس میں بانٹ لیتے ہیں ،سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ایک اشاعت کا کام مثلا لے لیجئے۔مثال کے طور پر سمجھاتا ہوں کے کتنا زیادہ ذمہ داری ہے ہماری اشاعت میں۔دنیا کی تمام بڑی بڑی زبانوں میں لٹریچر شائع ہو رہا ہے اور جو اس وقت سکیم ہے اس کے مطابق انشاء اللہ تعالیٰ اگلے چند مہینوں کے اندر اس کثرت سے دنیا کی بڑی بڑی زبانوں میں بنیادی لٹریچر شائع ہونے والا ہے کہ میں فکر مند ہوں کہ اس کو سنبھالیں گے کس طرح اور اگر اس کا نکاس کرنا ہو تو جماعت میں جو سیکرٹری ہے اس کام کے لئے ، اشاعت کے لئے ، اگر وہ فعال ہو اور پوری طرح اپنی ذمہ داری ادا کرنے والا ہو تو وہ تو لوگوں کی منتیں کرتا پھرے گا جگہ جگہ کہ آؤ اور مجھے