خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 361 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 361

خطبات طاہر جلد ۶ 361 خطبه جمعه ۲۲ رمئی ۱۹۸۷ء کی ہی نہیں جاسکتی۔لازماً ان معنوں میں کہ عمومی قانون ہے جو کارفرما ہوگا لیکن استثناء ان معنوں میں بھی ہو سکتے ہیں کہ ظلمتوں میں سے خدا روشنی نکال دیتا ہے، بدوں کے گھر نیک پیدا کر دیتا ہے۔اس لحاظ سے تو بعض سعید فطرت بچے ایسے بھی ہو سکتے ہیں جو بد اخلاقوں کے گھر پلیں اور صاحب اخلاق ہوں لیکن بالعموم یہی ہوتا ہے کہ گھروں میں ماں باپ اپنی اولاد کو بد خلق بناتے ہیں بعض ایسی صورتوں میں بھی بدخلق بنار ہے ہوتے ہیں جب ان کو نصیحت اخلاق کی کر رہے ہوتے ہیں۔ایک تضاد پایا جاتا ہے ان کی زندگی میں۔اپنے بچوں سے وہ اعلیٰ اخلاق دیکھنا چاہتے ہیں اور بچوں کے سامنے اپنا نمونہ جو رکھتے ہیں وہ بدخلقی کا ہوتا ہے اس لئے بچے ان کی بات ماننے کی بجائے ان کے عمل کا اثر قبول کر رہے ہوتے ہیں۔گھر میں ہر وقت فتنہ فساد گالی گلوچ، بیوی خاوند کے خلاف بول رہی ہے ، خاوند آیا گھر میں تو بیوی نے ہاتھ میں کوئی چیز اٹھالی اور غصے کی باتیں شروع کیں اتنی دیر کہاں رہے تھے، ہزار قسم کی بکواس شروع ہو جاتی ہے ایسی کہ جس کے نتیجے میں زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔قرآن کریم نے گھروں کا تصور پیش فرمایا کہ تا کہ تمہیں سکینت نصیب ہو، طمانیت کی آماجگاہ ہو تمہارے لئے اور ایسی کیفیت لوگ خود اپنے گھروں کی بنا دیتے ہیں کہ اگر ان کو سکینت ملتی ہے تو گھر سے باہر ملتی ہے گھر کا تصور ہی ان کے لئے مصیبت بنا ہوا تھا۔بجائے اس کے کہ بعض بیویاں اپنے خاوندوں کا انتظار کریں ان کو یہ ایک خوف لاحق ہو جاتا ہے کہ کب خاوند آئے گھر میں اور مصیبت شروع ہوئی۔بعض خاوند بجائے اس کے کہ یہ سوچیں کہ ہم بیویوں کی طرف لوٹیں گے تو دنیا کے دھندے باہر چھوڑ کر تھوڑی سی سکینت حاصل کریں گے۔وہ ڈرتے ہیں کہ گھر میں آئے تو فساد شروع ہوا گالی گلوچ شروع ہو گئی مطالبے ہوئے کوئی اور طعنے دینے شروع کر دئیے گئے۔خواہ مخواہ پاگلوں کی طرح، بے وقوفوں کی طرح اپنے گھروں کو خود جہنم بنارہے ہیں۔بداخلاقی بہت ہی بڑا گناہ بن جاتی ہے کیونکہ بد اخلاق کے متعلق میں جنت کا تصور نہیں کر سکتا۔اس لئے نہیں کر سکتا کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کو خدا نے جس جنت کی خبر دی ہے اس کا بدخلقی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔سلام سلام ہی وہاں ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ اس جنت کے لئے اس دنیا میں آپ کو سلامتی کی پریکٹس کرنی پڑے گی۔اس کی رضا کے ذریعے سلامت ہونا اور سلامتی دینا دوسرے کو یہ صفات اپنے اندر پیدا کرنی پڑیں گی۔اس لئے جنت کے متعلق یہ خیال کے سلامتی کو