خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 351 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 351

خطبات طاہر جلد 1 صلى الله 351 خطبه جمعه ۲۲ رمئی ۱۹۸۷ء ی۔ فرمایا اچھا میں ستر دفعہ سے زیادہ استغفار کر لیتا ہوں ، اگر مجھے آنحضرت ﷺ نے دعا نہیں چھوڑی۔ فرمایا اچھا میں۔ علی پتا لگ جائے کہ یہ قبول ہو جائے گی تو اس سے بھی زیادہ دفعہ کر لیتا( بخاری کتاب الجنائز ۔حدیث نمبر : ۱۱۹۰) لیکن دعا ئیں نہیں چھوڑیں۔ دعا ئیں نا مقبول نہیں ہوتیں ان معنوں میں کہ کرنے والے کو لگ جاتی ہیں اور اس پہلو سے جماعت احمد یہ احمد یہ کے اپنے لئے یہ دعا ئیں حصار بن جائیں گی۔ اگر وہ ظالموں کے حق میں دعائیں کریں گے کہ اے اللہ ! انہیں معاف فرما انہیں مصیبتوں سے نجات بخش تو بعض صورتوں میں تو فائدہ ہو بھی جائے گا کیونکہ ہر آدمی کی ایک جیسی حالت نہیں ہے ، ہر ایک کا ظلم مختلف معیار پر ہے، مختلف مراحل میں سے قوم گزر رہی ہے اس لئے یہ کہنا بھی غلط ہے کہ بالعموم نا مقبول ہو جائیں گی۔ بہت سے خدا کے نیک بندے ہیں جنہیں خدا کی خاطر خدا کے بندوں کی بھلائی کی خاطر بعض دعا کرنے والوں کی دعا ئیں بچا سکتیں ہیں لیکن جن کے حق میں نامقبول بھی ہوں ان کے متعلق بھی دعا کا فلسفہ یہ ہے کہ وہ دعائیں دعا کرنے والے کی طرف لوٹ آتی ہیں پھر اور بددعا کا بھی یہی فلسفہ ہے۔ انبیاء اور نیک لوگوں کے خلاف بد دعائیں کرنے والے خود اپنی بد دعاؤں سے ہلاک ہو جایا کرتے ہیں اور ظالموں کے لئے دعائیں کرنے والے خود اُنہی دعاؤں سے خود بچتے ہیں اور ان کے مراتب بلند ہوتے ہیں خدا کا قرب پہلے سے بڑھ کر ان کو نصیب ہونے لگ جاتا ہے۔ پس اس پہلو سے جب ہم غور کرتے ہیں تو خدا کا یہ اعلان کہ میں دعا کو قبول کرنے والا ہوں فَإِنِّي قَرِيبٌ ( البقرہ: ۱۸۷) یہ ایک لحاظ سے اعلانِ مطلق ہے اس میں کوئی استثناء آپ نہیں دیکھتے۔ ہاں یہ دعا کس کے حق میں قبول ہوتی ہے یہ فیصلہ خدا اپنے ہاتھ میں لیتا ہے۔ بد بخت کی دعا اس کے خلاف مقبول ہو جاتی ہے اور نیک بخت کی دعا اگر بد بخت کے لئے بھی کی جائے بعض دفعہ تو نیک بخت کے اپنے حق میں قبول ہوتی ہے۔ اس لئے دعا تو بہر حال کرنی ہے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ہر ملک میں ایک حالت نہیں ہے، ہر ملک جو بد سے بدتر بھی ہو چکا ہے اس میں بھی شریف النفس لوگ موجود ہیں۔ بہت سے لوگ ہیں جن تک ابھی بدیاں نہیں پہنچیں۔ بہت سے ہیں جو کڑھ رہے ہیں ، ان کے دل جل رہے ہیں وہ کچھ کر نہیں سکتے چاہتے ہیں کہ بدیاں دور ہوں ۔ فطری طور پر مسلمان میں نیکی موجود ہے اور بڑی بھاری تعداد مسلمان عوام الناس کی ایسی ہے جو نہایت بد ملکوں میں رہنے کے باوجود بھی نیکی سے پیار ضرور رکھتے ہیں۔ ان کے دل میں تمنا ہے