خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 339
خطبات طاہر جلد ۶ 339 خطبه جمعه ۵ ارمئی ۱۹۸۷ء کس کی تقریروں سے اب دل شاد ہو اپنی تحریروں سے اب پھڑ کائے کون ( کلام محمود صفحه: ۵۷) یہ جو درد کی یہ آواز بلند کر رہا تھا وہ خود سب باتوں میں وہی کچھ ہو گیا۔وہ خود وہ بن گیا جو معرفت کے نکات بتلایا کرتا تھا ، وہ خود وہ ہو گیا جو جام وصل دلر با پلوانے لگا، وہ خود وہ ہو گیا جیسے بعد میں جس کے جلوہ جاناں کو ترستی آنکھوں نے ڈھونڈا اور اس کو پا نہ سکیں۔وہ آڑے وقتوں میں آڑے آنے والا ہو گیا۔پس برکتوں کے جانے سے اس کے خلاء کا احساس بھی ایک زندہ حقیقت ہے اور برکتوں کے دائمی ہونے کا مضمون یہی ایک زندہ حقیقت ہے۔اس مضمون کو اس طرح سمجھیں تو آپ کے تصورات میں کوئی توازن کا بگاڑ پیدا نہیں ہوگا۔خاص طور پر رمضان مبارک میں مجھے اس مضمون کو نمایاں طور پر آپ کے سامنے رکھنے کی اس لئے ضرورت پیش آئی کہ رمضان مبارک سے بھی ہم عموماً یہی سلوک کیا کرتے ہیں جو جانے والے بزرگوں سے کرتے ہیں یعنی بعض لوگ۔ان کی یاد تو رکھتے ہیں دل میں لیکن ان کی برکتوں کو اپنانے کی کوشش نہیں کیا کرتے نوحے کا پہلو تو زندہ رہتا ہے اور زندہ رہنے والی خوبیوں کا پہلو مر جاتا ہے۔برکتوں سے محروم تو ہو جاتے ہیں لیکن ہمیشہ استفادہ کرنے کے لئے جو خدا نے ان کو جو صلاحیت بخشی تھی اس صلاحیت کو بروئے کار نہیں لاتے۔رمضان مبارک بھی آتا ہے اور چلا جاتا ہے اور بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ رمضان آیا اور اپنی ساری برکتیں لے کر چلا گیا۔لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جن کے لئے رمضان برکتیں چھوڑ کر جاتا ہے اور ہر رمضان برکتیں چھوڑ کر جاتا ہے۔اسی لئے میں نے کہا تھا کہ اسی طرح خدا تعالیٰ کے بعض بندے ہیں جو خاص خوبیاں لے کر آتے ہیں وہ ہمیشہ برکتوں میں اضافہ کر کے جایا کرتے ہیں۔ایک پہلو سے خلا بھی محسوس ہو گا لیکن دوسرے پہلو سے یہ واقعہ ہے کہ کچھ نہ کچھ مزید باتیں چھوڑ جاتے ہیں، سنت حسنہ میں اضافہ کرتے چلے جاتے ہیں۔اسی طرح رمضان کا مبارک مہینہ ہے ہر سال یہ لوٹ کر اس لئے آتا ہے تا کہ کچھ برکتیں ہمیشہ کے لئے پیچھے چھوڑ جائے۔ابھی آئندہ جمعہ کو جمعتہ الوداع کہا جائے گا۔کم از کم اس علاقے میں جہاں تقریباً 29 کے روز قطعی ہو چکے ہیں یعنی نظر آنے لگ گیا ہے سائنسی شواہد سے کہ 29 کے روزے ہیں وہاں تو یہ جمعہ