خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 338
خطبات طاہر جلد ۶ 338 خطبه جمعه ۱۵ رمئی ۱۹۸۷ء ٹھو کر اونچی سی کو ہان جیسا بن گیا تھا۔ جب اس کو ہان پر تانگہ پہنچا تو اتنی زور سے جھٹکا لگا کہ منشی اروڑے خاں صاحب اُچھل کر کیچڑ میں جا گرے ان کے نیچے بھی بارش تھی اور اوپر بھی بارش تھی اور منشی ظفر احمد صاحب کو اللہ تعالی نے بچا لیا ان کو صرف اوپر کی بارش ملی نیچے کی بارش نہیں ملی ۔ ( اصحاب احمد جلد چہارم صفحہ: ۱۶۲ ) وہ خدا جو غیر معمولی شان کے ساتھ دعاؤں کی قبولیت کے نشان دکھایا کرتا تھا محمد مصطفی اصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاؤں کی ہی برکت سے ایسی دعائیں کرنے والے پیدا ہو گئے کہ خدا نے دوبارہ ویسے ہی نشان دکھانا شروع کر دیئے ۔ اس لئے دعاؤں کی برکتوں سے مایوس ہونا یہ ہے جس کے خلاف میں اس دن آپ کو نصیحت کی تھی کہ ہر گز ایسی مایوسی کا شکار نہ ہوں ۔ آپ دعا گو بنیں آپ کو دعاؤں کی برکتیں ملیں گی اور آپ خود دعا گو بن جائیں گے لیکن ایک دعا گو بزرگ کو اُس کی رحمتوں اُس کی شفقتوں ، اس کے احسان کے نتیجہ میں پیار اور محبت سے یا د رکھنا یہ الگ مضمون ہے اور اسکی کمی محسوس کرنا یہ ایک الگ مضمون ہے۔ اس سے وفا کرنا اور خود جس سے دعائیں لیتے رہے اس کے لئے دعائیں کرنا یہ ایک الگ مضمون ہے جو پہلے مضمون کے منافی نہیں ۔ اس مضمون کو سمجھ کر اس کو اپنے طور پر یاد رکھیں اور اس پر بھی عمل کریں۔ حضرت خلیفة امسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال پر ( آپ کے وصال کے جلدی بعد ) جو درد ناک نظمیں کہیں ان میں سے ایک نظم کے چند شعر میں آپ کو سناتا ہوں اس سے اُس وقت آپ کے دل کی کیفیت محسوس ہوتی ہے کہ کیا تھی۔ فرماتے ہیں : وہ نکات معرفت بتلائے کون جام وصل دلربا پلوائے کون ڈھونڈتی ہے جلوہ جاناں کو آنکھ چاند سا چہرہ ہمیں دکھلائے کون کون دے دل کو تسلی ہر گھڑی کون کون میرے واسطے زاری کرے در گه ربی میں میرا جائے کون