خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 337 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 337

خطبات طاہر جلد ۶ 337 خطبه جمعه ۵ ارمئی ۱۹۸۷ء ہوگئیں ، سارے علاقے سیراب ہو گئے۔یہاں تک کہ اُسی دعا کی درخواست کرنے والے کو یہ عرض کرنا پڑی یا رسول اللہ بہت ہو گیا بس کریں۔اب دعا یہ کریں کہ اے خدا بس اب اس رحمت کو عارضی طور پر بند کر دے۔( بخاری کتاب الجمعہ حدیث نمبر: ۹۳۳)۔ایسے ایسے عجیب نظارے جن آنکھوں نے دیکھے ہوں کیسے ممکن ہے کہ ایسی بابرکت ہستی کی جدائی کے بعد وہ اس کی بات پر ہی صرف اطمینان پکڑ جائیں کہ وہ برکتیں جاری رہنے والی برکتیں ہیں۔دعا کی برکتیں آپ نے سکھائیں جس طرح بچے کو پیار سے ماں سکھاتی ہے اُس سے بھی زیادہ پیار اور توجہ سے آپ ﷺ نے تربیت کی اور بڑے دعا گو پیچھے چھوڑے لیکن وہ جو خود تھے وہ تو پیدا نہیں ہو سکا۔اس لئے وہ خلاء ضرور محسوس ہوا اور دیر تک یہ محسوس ہوتارہا لیکن اس کے باجود یہ کہنا بھی نا جائز ہے کہ آپ کی دعاؤں کی ساری برکتیں اُٹھ گئیں۔آج بھی امت محمدیہ پر آپ کی دعاؤں کی برکتیں برس رہی ہیں۔دیکھنے والے جانتے ہیں اور پہچانتے ہیں کہ ہزار خطروں کے ایسے لمحے آئے جن سے امت محمد یہ بیچ کر گزرگئی اور ہلاک ہونے سے بچالی گئی جو خالصہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کی جاری برکات کے نتیجہ میں تھا۔پس مایوسی کی پھر بھی کوئی وجہ نہیں اور وہ دعا گو پیدا ہوئے جن کا زمانہ کے لحاظ سے تیرہ سو سال کا فرق تھا لیکن حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں ہی کی برکتوں نے ایسے دعا گو پیدا کر دیئے جنہوں نے پرانی دعاؤں کی یاد میں زندہ کر دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں کپورتھلہ کے دوصحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جب جدا ہونے لگے تو ان میں سے ایک نے ہنشی اروڑے خاں صاحب نے اپنے خاص پیار کے انداز میں، بے تکلفی کے انداز میں یہ درخواست کی کہ بہت گرمی ہو گئی ہے ہم نے واپس جانا ہے اور موسم بڑا سخت ہے حضور دعا کریں کہ ایسی بارش بر سے کہ اوپر سے بھی بارش ہو اور نیچے سے بھی بارش، بارش ہی بارش ہو جائے اب یہ محاروہ ہے اوپر سے بھی بارش نیچے سے بھی بارش اور منشی ظفر احمد صاحب بڑے ذہین اور فطین انسان تھے۔انہوں نے مسکرا کر عرض کی حضور میرے لئے اوپر کی بارش کی دعا کریں نیچے کی بارش کی نہ کریں۔وہ بتاتے ہیں کہ ہم یکہ پر روانہ ہوئے اور قادیان سے بٹالہ تک کا سفر ابھی آدھا طے نہیں کیا تھا کہ اس قدر گہری کالی گھٹا اٹھی ہے اور اس زور سے برسی ہے کہ حیران رہ گئے ہم ، کوئی آثار نہیں تھے۔لیکن جل تھل بھر گئے یہاں تک کہ بٹالہ کے پاس یا اس سے کچھ آگے ایک پل آیا کرتا تھا جہاں سڑک میں ایک بڑا نمایاں بمپ بن گیا تھا۔یعنی