خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 331
خطبات طاہر جلد ۶ 331 خطبه جمعه ۵ ارمئی ۱۹۸۷ء تھا۔ایسی شمع تھی جو دوسری شمع کو روشن کر سکتی تھی۔چنانچہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی ہی میں اور بہت سے سینوں نے اپنے اندر اس نورکومستعار لیا اور پھر اپنی شمعیں روشن کر لیں اور جگہ جگہ مومنین کے سینہ میں تم اس نور کو چمکتا ہوا اور اردگرد ماحول کو روشن کرتا ہوا پاؤ گے۔یہ وہ مضمون تھا جس کو میں جماعت کے سامنے نمایاں طور پر لانا چاہتا تھا کہ نور سے نور لینا اور نور بننا خلاء کو محسوس کرنا لیکن دوسروں کے لئے ایسا نمونہ بن جانا کہ وہ خلاء محسوس نہ کریں اور ایک نور کو لے کر دوسروں تک پہنچانا اسکی طرف توجہ کریں بجائے اس کے کہ کھوئے ہوئے کی طرف اپنی ساری توجہ مبذول کر دیں جو حاصل ہوسکتا ہے اس میں اس کی طرف توجہ مبذول کریں۔اس خطبہ سے ممکن ہے کسی پر یہ اثر پڑا ہو کہ میں کلیڈ کس شخصی وجو د کی ذاتی برکتوں کا انکار کر رہا ہوں۔اسلئے مجھے خیال آیا کہ اس پہلو پر بھی روشنی ڈالنی ضروری ہے تا کہ ہماری سوچوں میں توازن پیدا ہو اور توازن قائم رہے۔اس بات سے کوئی انکار نہیں جو میں نے بات کی ہے یہ اپنی ذات میں درست ہے۔لیکن یہ بھی درست ہے کہ بعض لوگ جو بعض خوبیوں اور خصلتوں میں ایک نمایاں شان اختیار کر جاتے ہیں ان کے معا بعد ویسے دوسرے لوگ دکھائی نہیں دیا کرتے خواہ ان کا اپنا قصور ہو لیکن واقعات سے تو آنکھیں بند نہیں کی جاسکتیں اور بعض وجودوں کو آنکھیں ترسا کرتی ہیں۔حضرت محمد مصطفی اصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایسی ہی شان تھی۔باوجود اس کے کہ آپ کو اسوہ قرار دیا گیا با وجود اس کے کہ یہ یقین دہانی کروائی گئی کہ یہ نور باقی رہنے والا نور ہے اس کے ساتھ ساری روشنی نہیں چلی جائے گی۔تم جانتے ہو تمہارے گھروں میں چمک رہا ہے، تمہارے سینوں میں چمک رہا ہے۔اس یقین دہانی کے باوجود اور Model ،اسوہ قرار دینے کے باوجود جب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جدا ہوئے تو آنکھیں ویران ہو گئیں۔ایسے ایسے دردناک مناظر دیکھنے میں آتے ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ ساری دنیا صحابہ پر اندھیر ہوگئی: كنت السواد لناظري فعمى على الناظر من شاء بعدك فلیمت فعلیک کنت احاذر حسان بن ثابت نے یہ انتہائی درد کی آواز بلند کی ہے۔بے ساختہ اس کے سینہ سے ایک چیخ نکلی جو اپنی ذات میں ایک دائی پیچ بن گئی۔یہی کیفیت تھی صحابہ کے دل کی جسے حضرت حسان