خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 322
خطبات طاہر جلد ۶ 322 خطبه جمعه ۸ رمئی ۱۹۸۷ء رکھتا ہے، حقیقی برکت اسی کا نام ہے۔اس پہلو سے یہ درست ہے کہ بعض لوگ جب تک زندہ ہوں بعض خام لوگ ان کی صحبت سے مستقل فائدہ اٹھانے کی بجائے عارضی فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کی برکتوں سے اس وقت تک چھٹتے ہیں جب تک وہ وجود زندہ ہوں اور ان کے جانے کے بعد خود برکتوں کو اپنے ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں۔یہ جو کیفیت ہے اس کے نتیجے میں آپ کو ایک نمایاں فرق نظر آتا ہے اس بزرگ کی زندگی اور اس بزرگ کی آنکھیں بند کرنے کے بعد۔پس سب سے پہلا اور سب سے اہم فریضہ اولاد کا ہے کہ اپنے بزرگوں کی برکتوں کو جاری رکھیں وہ لوگ جو اپنے بزرگوں کی برکتوں کا نوحہ کرنے لگ جاتے وہ اپنے ہاتھ سے برکتوں کو ہلاک کرنے والے ہوتے ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ کسی بزرگ کے وصال کے بعد خدا تعالیٰ کبھی اس کی برکتوں کو ختم نہیں فرماتا۔لوگوں پر منحصر ہے کہ وہ اس کی برکتوں کو اس سے قطع تعلق کر لیں یا اس تعلق کو جاری رکھیں اور برکتوں کو اپنے اندر ہمیشہ کے لئے زندہ رکھیں۔اسی مضمون کو اللہ تعالی بیان فرماتے ہوئے قرآن کریم میں فرماتا ہے:۔اِنَّ اللهَ لَا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيْرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ (الرعد:١٣) اگر آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد آپ کی برکتوں نے اٹھ جانا تھا محض آپ کے وصال کے نتیجے میں تو قرآن کریم میں خدا تعالیٰ یہ اعلان کبھی نہ فرماتا: - إِنَّ اللهَ لَا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيْرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ ، خدا تعالیٰ جونعمتیں عطا فرما دیتا ہے کسی قوم کو، فرماتا ہے ہر گز کسی صورت میں خدا تعالیٰ ان نعمتوں کو تبدیل نہیں فرمایا کرتا جب تک قوم خود نہ بدل دے۔اس لئے اس مضمون کو خوب سمجھنا چاہئے کہ صاحب برکت وجود کی برکتوں کو زندہ رکھنا ان لوگوں کا کام ہے جو ان برکتوں کو ایک دفعہ اس کی زندگی میں حاصل کر چکے ہیں۔ان کے اختیار میں خدا تعالیٰ نے دے دیا ہے چاہیں تو ان برکتوں کو زندہ رکھیں چاہیں تو ان برکتوں کو ختم کر دیں اور پیچھے ماضی میں چھوڑ جائیں۔اس لئے جب بھی کوئی با برکت وجود گزرتا ہے جماعت احمدیہ کو یہ عہد کرنا چاہئے کہ ہم ان برکتوں کو بفضلہ تعالیٰ مضبوطی کے ساتھ چمٹے رہیں گے اور کسی برکت کو بھی اس وجود کے جانے کے نتیجے میں اپنے ہاتھ سے ضائع نہیں کریں گے۔یہ وہ عزم ہے اگر جماعت کرتی ہے تو کوئی بھی آتا ہے اور چلا