خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 317 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 317

خطبات طاہر جلد ۶ 317 خطبه جمعه ۸ رمئی ۱۹۸۷ء اس پہلو سے میں سمجھتا ہوں کہ ”وخت کرام میں حضرت پھوپھی جان کی لمبی عمر کی پیشگوئی تھی چونکہ پہلی بیٹی جلد چھوٹی عمر میں فوت ہوگئی تھی اس کے جواب میں دُختِ کرام کے اندر ہی یہ بتا دیا گیا کہ یہ اخلاق کریمانہ رکھنے والی بیٹی ہوگی اور لوگ اس کو دیکھیں گے اور یہ کہیں گے کہ ہاں صاحب اخلاق والوں کی بچی ہے۔اس پہلو سے یہ امر واقعہ ہے کہ یہ الہام بڑی شان کے ساتھ حضرت پھوپھی جان کے حق میں پورا ہوا اور عورتیں کیا اور بچے کیا اور بزرگان کیا جن کو کسی رنگ میں بھی حضرت پھوپھی جان کے ساتھ کسی رنگ و نوع کا معاملہ ہوا تو سب گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے فضل سے بہت ہی کریمانہ اخلاق کی مالک تھیں۔مئی 1904ء میں آپ کے متعلق الہام ہوا ہے 10 مئی کو اور آپ کی پیدائش 25 جون 1904ء کو ہوئی اور آپ کا وصال 6 رمئی 1987 ء کو تقریبا ساڑھے تین بجے ہوا۔پونے تین بجے اچانک آپ کی صحت بگڑی اور جب ڈاکٹر پہنچے ہیں تو اس وقت تک معاملہ ہاتھ سے نکل چکا تھا چنانچہ مجھے فون پر بہت جلد اُس کے بعد اطلاع ملی کہ بہت تھوڑے عرصے میں ہی کوئی لمبی تکلیف نزع کی آپ نے نہیں دیکھی بہت تھوڑے عرصے یعنی ساڑھے تین تک آپ کا وصال ہو چکا تھا۔میرے لئے بطور خاص یہ ایک بہت ہی صبر آزما خبر تھی اس لئے کہ حضرت پھوپھی جان کی یہ خواہش تھی اور میں جانتا ہوں کہ میری خواہش کے جواب میں تھی یعنی جو مجھے ان سے محبت تھی میں سمجھتا ہوں اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں بھی یہ خواہش پیدا فرمائی کہ وہ مجھے دوبارہ دیکھیں اور گلے لگائیں۔چنانچہ اپنے خطوں میں جو لکھوائے انہوں نے ، اس خواہش کا ذکر بھی کیا کہ میں دوبارہ تمہیں دیکھوں اور خود گلے لگا سکوں۔یہ عجیب بات ہے کہ بعض اوقات خدا تعالیٰ ان خواہشات کو ایک خاص رنگ میں پورا فرما دیتا ہے۔دنیا والوں کو اس بات کا پوری طرح احساس نہیں ہوسکتا لیکن اللہ تعالیٰ کے رنگ نرالے ہیں اور وہ روحانی طور پر بعض دفعہ خواہشات کو اس طرح حیرت انگیز طریقے سے پورا فرماتا ہے کہ جن کو یہ تجربہ ہو وہی جانتے ہیں کہ یہ کس دنیا کی باتیں ہیں۔چند روز پہلے میں نے ایک عجیب خواب دیکھا۔خواب میں دیکھا کہ بوزینب یعنی چی جان حضرت چھوٹے چچا جان (حضرت مرزا شریف احمد صاحب) کی بیگم مرحومہ جو صاحبزداہ مرزا منصور احمد صاحب کی والدہ تھیں وہ تشریف لائی ہیں ان کو میں نے پہلے تو کبھی خواب میں دیکھا نہیں تھا